اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے سسٹم کے غیر محفوظ ہونے سے متعلق خبروں کی تردید کر دی۔منگل کو جاری بیان کے مطابق مختلف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ ایف بی آر کا پورا آئی ٹی سسٹم غیر محفوظ اور ناکام ہوچکا ہے اور سائبر کریمنلز کے کنٹرول میں ہے۔ ایف بی آر اس قسم کی تمام خبروں اور …
ایف بی آر کی سسٹم کے غیر محفوظ ہونے سے متعلق خبروں کی تردید

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے سسٹم کے غیر محفوظ ہونے سے متعلق خبروں کی تردید کر دی۔منگل کو جاری بیان کے مطابق مختلف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ ایف بی آر کا پورا آئی ٹی سسٹم غیر محفوظ اور ناکام ہوچکا ہے اور سائبر کریمنلز کے کنٹرول میں ہے۔ ایف بی آر اس قسم کی تمام خبروں اور وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کی غلط تشریح کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
ریکارڈ درست رکھنے اور عوام کو صحیح معلومات فراہم کرنے کے لیے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ مذکورہ کیس میں شکایت کنندہ کا پاس ورڈ خود ٹیکس دہندہ کی تحویل میں تھا اور پاس ورڈ کے غلط استعمال کا واقعہ ٹیکس دہندہ کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے پیش آیا ۔اس میں ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
یہ پاس ورڈ اُس وقت غلط استعمال ہوا جب یہ ٹیکس دہندہ کی تحویل میں تھا اور اسے ایف بی آر کے ڈیٹا بیس سے حاصل نہیں کیا گیا۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس بے ضابطگی کی نشاندہی سب سے پہلے ایف بی آر کے اپنے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ نے ٹیکس دہندہ کے غیر معمولی ریٹرن فائلنگ پیٹرن کی بنیاد پر کی تھی۔
مزید یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم کے سکیورٹی پراسسز کی جامع اوور ہالنگ دسمبر 2024 میں کی گئی۔ ایف بی آر کا آئی ٹی انفراسٹرکچر جدید ترین سٹیٹ آف دی آرٹ سکیورٹی انفارمیشن اینڈ ایونٹ مینجمنٹ اور سکیورٹی آرکسٹریشن، آٹومیشن اینڈ ریسپانس سسٹمز کے تحت کام کر رہا ہے۔ تمام اہم سرورز اور ڈیٹا سٹوریج سہولیات جدید اینڈ پوائنٹ ڈیٹیکشن اینڈ ریسپانس سلوشنز اور ملٹی فیکٹر تصدیقی میکنزم سے لیس ہیں۔
اس کے علاوہ جدید ترین لاگنگ میکانزم بھی بروئے کار لائے گئے ہیں جن کی بدولت کسی بھی بیک چینل کے ذریعے نظام میں داخل ہو کر لاگ جنریشن کئے بغیر ایف بی آر کے بنیادی ڈیٹا میں کوئی تبدیلی کرنا ناممکن ہے۔اس حوالے سے جنوری اور فروری 2025 کے دوران ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم کا مکمل تھرڈ پارٹی سکیورٹی آڈٹ کرایا گیا اور تمام خامیوں کو دور کر دیا گیا۔
مئی 2025 میں ورک فلو میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرائی گئی جس میں کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیقی نظام شامل کیا گیا جسے بعد ازاں عارضی طور پر ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواست پر معطل کر دیا گیا۔ اوپر بیان کئے گئے تمام حفاظتی اقدامات اور میکنزم سے قطع نظر ٹیکس دہندگان کو ان کے اپنے مفاد میں سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسے پاس ورڈ نہ رکھیں جن کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہو۔
مثلاً اپنے نام یا تاریخِ پیدائش پر مبنی پاس ورڈ ۔ ٹیکس دہندگان کو چاہیئے کہ وہ حروف، اعداد اور خصوصی علامات کے امتزاج پر مبنی مضبوط پاس ورڈ بنائیں۔ ایک ہی پاس ورڈ کو مختلف پلیٹ فارمز پر استعمال نہ کریں اور اپنے پاس ورڈز کو ہر وقت محفوظ رکھیں کیونکہ کوئی بھی سکیورٹی سسٹم پاس ورڈ کی چوری ہونے یا چوری شدہ پاس ورڈ کے غلط استعمال کا پتا نہیں لگا سکتا۔








