"وزیراعظم کی ہدایات پر قائم ایمرجنسی ریسپانس کمیٹی نے مون سون اور ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط اقدامات کا جائزہ لیا۔”
ایمرجنسی ریسپانس کمیٹی کا پانچواں اجلاس ،مون سون 2026 کے دوران قومی سطح پر تیاریوں اور مربوط ہنگامی ردعمل کا تفصیلی جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کی ہدایات پر قائم ایمرجنسی ریسپانس کمیٹی کا پانچواں اجلاس این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا،وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی جبکہ وفاقی وزیر مصدق ملک، رانا تنویر حسین اور شزہ فاطمہ خواجہ بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئیں۔
میڈیا ونگ، این ڈی ایم اے کے مطابق اجلاس میں چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک ، این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں مون سون 2026 کے دوران قومی سطح پر تیاریوں اور مربوط ہنگامی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے امدادی سامان، انخلا ء کے منصوبوں،ایمرجنسی کمیونیکیشن اور ریسپانس تیاریوں پر بریفنگ دی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اس وقت معمول کے مطابق ہے۔اس موقع پر مون سون اسپیل کے پیش نظر موسم، دریاؤں کے بہاؤ اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بروقت پیشگی آگاہی اورکسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے ضلعی اور مقامی انتظامیہ کے کردار کو مؤثر ڈیزاسٹر ریسپانس کے لیے کلیدی قرار دیا۔ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے ہدایت کی کہ تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لا کر عوام اور متعلقہ انتظامی افسران تک بروقت پیشگی وارننگز پہنچائی جائیں۔وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو مون سون کے دوران کامیاب ردعمل کے لیے ناگزیر قرار دیا۔اجلاس میں تمام متعلقہ اداروں کو مون سون سیزن کے دوران مربوط عوامی آگاہی مہم جاری رکھنے اور باہمی رابطہ مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی ۔ایمرجنسی ریسپانس کمیٹی نے مون سون 2026 کے دوران قیمتی جانوں، روزگار اور اہم قومی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مربوط قومی حکمتِ عملی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔








