وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ گورننس کے بہتر نظام سے لوگوں کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے میں مدد ملے گی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ضروری ہے، این ایف سی میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا تناسب 50 فیصد رکھا جائے۔
این ایف سی میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا تناسب 50 فیصد رکھا جائے، وفاقی وزیر قومی صحت کا بجٹ پر بحث میں اظہارخیال
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ گورننس کے بہتر نظام سے لوگوں کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے میں مدد ملے گی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ضروری ہے، این ایف سی میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا تناسب 50 فیصد رکھا جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک کی آبادی 26 کروڑ ہے اور ہر سال 6.7 ملین لوگ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو2030ء تک ہم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پانچویں بڑے ملک سے چوتھے بڑے ملک کے نمبر پر چلے جائیں گے، ہرسال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران مرجاتی ہیں، 40 فیصد بچے ناقص غذائیت کا شکار ہیں، دو کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں، ہمیں 66 ہزار سکولوں اور 6 لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی ضرورت ہے، ہمیں 3600 نئے پرائمری ہسپتال اور دو کروڑ نئے گھر چاہئیں، اگر اس صورتحال پر قابو نہیں پایا گیا توہمارے مسائل بڑھ جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت کی دولت کی تقسیم کے فارمولے کا انحصار 82 فیصد آبادی پر رکھا گیا ہے، اس بنیاد پر اگر بلوچستان کو پنجاب جتنے فنڈز چاہئیں تو ان کو اپنی آبادی پنجاب جتنی کرنا پڑے گی ،یہ اس نظام کی بڑی کمزوری ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس مسئلہ کوحل ہونا چاہے، این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم کافارمولا 50 فیصد آبادی کی بنیاد پر رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مانع حمل ادویات پرٹیکس کا خاتمہ خوش آئند ہے اس سے 1.5ملین بچوں کی پیدائش میں کمی آئے گی۔ نیشنل پاپولیشن سٹیبلائزیشن کیلئے روڈمیپ بنایاگیاہے جس پرہم وزارت خزانہ کے شکر گزارہیں۔ انہوں نے کہاکہ گورننس کے نظام میں بہتری لانا ضروری ہے، بہتر نظام سے لوگوں کے مسائل ان کے دہلیز پرحل کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہاکہ قابل تقسیم محاصل سے 8848 ارب صوبوں کے پاس جاتے ہیں، صوبوں کے اندراضلاع سے ان وسائل کی فراہمی کا طریقہ کار نہیں ہے، اس کیلئے ایک فعال اور موثر بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ جی ایس ٹی کے تحت صوبوں کے پاس جانیوالے فنڈز آئینی طور پر اضلاع کے پاس جانا چاہئے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ہماری جماعت نے وسائل کونچلی سطح پرمنتقل کرنے کویقینی بنانے کیلئے آئینی ترمیم پیش کی ہے اس پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سکھر حیدر آباد موٹروے کوکراچی تک وسعت دی جائے، کے فور منصوبہ کوجلد از جلد مکمل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ امن معاہدے میں پاکستان کا بڑا کردار رہا ہے، بھارت کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوا ہے جس میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے تیسری عالمی جنگ روک کرکارنامہ انجام دیا ہے۔









