اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) این سی ایچ ڈی کی چیئر پرسن اور سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاءکے ممالک میں ایک تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں، اسی طرح تعلیمی مواد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں 40فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں جن میں لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ شامل ہیں، پرائمری کلاس تک ہم بہترین رسمی تعلیمی …
این سی ایچ ڈی کی چیئر پرسن رزینہ عالم خان کا غیر رسمی تعلیم پر اسلام آباد فورم کے تیسرے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 مئی (اے پی پی) این سی ایچ ڈی کی چیئر پرسن اور سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاءکے ممالک میں ایک تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں، اسی طرح تعلیمی مواد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں 40فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں جن میں لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ شامل ہیں، پرائمری کلاس تک ہم بہترین رسمی تعلیمی نظام بناچکے ہیں لیکن یہ نظام 5کروڑ 70لاکھ ان پڑھ اور64لاکھ سکولوں سے باہررہ جانے والے بچے جن کی عمر (10سے14)سال ہے کےلئے کافی نہیں ہے لیکن ہم ابھی بھی 90فیصد شرح خواندگی حاصل کرنے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں،اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہم غیر رسمی تعلیم کو متحرک کریں اور رسمی اور غیر رسمی تعلیمی نظام کے ذریعے نامکمل ایجنڈے کو پورا کر سکیں۔ وہ غیر رسمی تعلیم پر اسلام آباد فورم کے تیسرے اجلاس سے خطاب کررہی تھیں۔








