"این ڈی ایم اے نے پری مون سون بارشوں سے قبل ممکنہ موسمی خطرات کے پیشِ نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔”
این ڈی ایم اے کا ملک میں پری مون سون بارشوں سے قبل خطرات بارے الرٹ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جون (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں 28 جون سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے پری مون سون بارشیں متوقع ہیں، شمالی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات سے خبردار کرتے ہوئے لوگوں کو سفر سے گریز کرنے، باخبر رہنے اور ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے اتوار کو مقامی میڈیا چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی اور متوقع پری مون سون بارشوں کے خطرناک امتزاج سے گلیشیئر پگھلنے میں تیزی کا امکان ہے جس سے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں کشمیر میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ کا خدشہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ پہاڑی علاقوں کے تیزی سے بدلتے ہوئے اور غیر مستحکم موسم کی وجہ سے پیشین گوئی کی مدت کے دوران برفانی جھیل کے سیلاب ، تیز سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے زیادہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، شگر، گھانچے، کھرمنگ، استور، دیامر، بالائی اور زیریں چترال اور سوات سمیت ہائی رسک والے اضلاع میں رہائشیوں، سیاحوں اور مسافروں کو انتہائی احتیاط کا مشورہ د یتے ہوئے حکام نے کہا کہ موسم کی اچانک تبدیلی سے جان لیوا حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے عوام پر زور دیا کہ دریاؤں، ندی نالوں، برفانی جھیلوں اور دریا کے کناروں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے سختی سے گریز کریں، جان و مال کے نقصان سے بچنے کے لیے مقامی حکام کو کسی بھی غیر معمولی یا خطرناک صورتحال کی فوری اطلاع دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو سخت ہدایات کے ساتھ ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ متوقع موسمی نظام کی وجہ سے کسی بھی آفت کی صورت میں ہنگامی تیاریوں، تیز رفتار ردعمل کی صلاحیت اور مربوط کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ این ڈی ایم اے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطرات کو کم کرنے، جانوں کی حفاظت کرنے اور متوقع موسم سے متعلقہ خطرات سے ممکنہ نقصان کو کم کرنے کے لیے بروقت احتیاط، حفاظتی مشوروں پر سختی سے عمل اور ہر سطح پر مربوط تیاری ضروری ہے۔








