ایچ ای سی جون میں بلاک چین پر مبنی ڈگری تصدیق کا نظام شروع کرے گا

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) جون 2026 میں بلاک چین پر مبنی ڈگری تصدیق کے نظام کا پہلا مرحلہ شروع کرنے جا رہا ہے تاکہ تصدیق کے عمل کو آسان، زیادہ محفوظ اور آن لائن قابل رسائی بنایا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ایچ ای سی نے ڈگری تصدیق اور مساوات کے عمل میں شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے جدید …

اسلام آباد۔12مارچ (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) جون 2026 میں بلاک چین پر مبنی ڈگری تصدیق کے نظام کا پہلا مرحلہ شروع کرنے جا رہا ہے تاکہ تصدیق کے عمل کو آسان، زیادہ محفوظ اور آن لائن قابل رسائی بنایا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ایچ ای سی نے ڈگری تصدیق اور مساوات کے عمل میں شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔زیرِ تیاری نئے نظام کے تحت ایک محفوظ اور مضبوط بلاک چین فریم ورک متعارف کرایا جائے گا جس کا مقصد تمام جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تعلیمی ریکارڈ کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر مربوط اور منسلک کرنا ہے۔اس اقدام کا مقصد درخواست دہندگان کو تصدیق اور توثیق کے لئے جامعات کے ذاتی دوروں کی ضرورت ختم کرنا ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو خصوصی ڈیش بورڈ فراہم کئے جائیں گے جن کے ذریعے وہ درخواست گزاروں کے تعلیمی ڈیٹا کی محفوظ طریقے سے تصدیق اور توثیق کر سکیں گے۔ یونیورسٹی سطح پر تصدیق مکمل ہونے کے بعد کیسز خودکار طریقے سے مزید کارروائی کے لیے ایچ ای سی کو بھیج دیئے جائیں گے۔ایچ ای سی کی جانب سے تصدیق اور توثیق کے بعد طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ بلاک چین پر ناقابلِ ترمیم اور قابلِ تصدیق ڈیجیٹل اسناد کی شکل میں محفوظ کر دیئے جائیں گے۔ طلبہ کو اپنے تعلیمی ریکارڈ تک ڈیجیٹل صورت میں براہِ راست رسائی حاصل ہوگی جسے وہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی محفوظ انداز میں آجر اداروں، تعلیمی اداروں یا متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر اور تصدیق کرا سکیں گے۔

توقع ہے کہ بلاک چین فریم ورک جعلسازی، جعلی دستاویزات اور تصدیق میں تاخیر کو نمایاں حد تک کم کرے گا جبکہ ڈیٹا کی درستگی، ناقابلِ تبدیلی حیثیت اور حقیقی وقت میں اسناد کی تصدیق کو یقینی بنائے گا۔ایچ ای سی کے مطابق بلاک چین سے فعال ڈگری تصدیق کے نظام کا پہلا مرحلہ 30 جون 2026 تک شروع کئے جانے کی توقع ہے جو پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اسناد کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔

مزید خبریں
نائب وزیراعظم
پاکستان کو سخاوت، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی خدمت کی اپنی دیرینہ روایات پر فخر ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی یومِ انسانی ہمدردی کے موقع پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ان تمام انسانی خدمت گاروں اور رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جو ضرورت کے وقت لوگوں کی مدد کے لیے خود کو وقف کردیتے ہیں۔ بدھ کو دفتر خارجہ کے مطابق انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں ہمدردی، خدمت اور آفات و دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑے ہونے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ یہ اس عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر کمزور اور متاثرہ طبقات کی مدد اور انسانیت کی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سخاوت، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی خدمت کی اپنی دیرینہ روایت پر فخر ہے، یہ اقدار ہمارے معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہیں اور مشکلات کے وقت ہمیشہ ہمارے لوگوں کو متحد کرنے کا باعث بنی ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی آفات کے حوالے سے ہمارے تجربے نے بارہا پاکستانی عوام کی استقامت، یکجہتی اور جذبۂ تعاون کو ثابت کیا ہے، شہریوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ آبادیوں کی مدد، امداد اور بحالی کی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں انسانی خدمت کے لیے سرگرم تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور ہمدردی، یکجہتی اور انسانیت کی خدمت کے اصولوں سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں