ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے سردار حمزہ قتل کیس میں ملزمان سید عارف شاہ کو سزائے موت سنا دی

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے نگری بالا ایبٹ آباد کے رہائشی سرکاری ملازم سردار حمزہ ولد گل خطاب قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان سابق ایس پی پولیس سید عارف شاہ کو سزائے موت اور 10 لاکھ جرمانہ، شریک ملزمان بہنوئی صابر شاہ اور بھانجے ثقلین کو عمر قید اور بیس بیس لاکھ روپے جرمانہ کی سزائیں سنائیں۔

ایبٹ آباد۔ 21 مئی (اے پی پی):ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے نگری بالا ایبٹ آباد کے رہائشی سرکاری ملازم سردار حمزہ ولد گل خطاب قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان سابق ایس پی پولیس سید عارف شاہ کو سزائے موت اور 10 لاکھ جرمانہ، شریک ملزمان بہنوئی صابر شاہ اور بھانجے ثقلین کو عمر قید اور بیس بیس لاکھ روپے جرمانہ کی سزائیں سنائیں۔ سردار حمزہ کے مانسہرہ میں قتل کے جرم میں ان کے بھائی محمد وقار کی مدعیت میں ان کی گمشدگی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے مجموعی طور پر تین ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ مانسہرہ کے رہائشی عارف شاہ پر ایبٹ آباد کے رہائشی سردار حمزہ کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا الزام تھا۔ مقتول سردار عارف کو گذشتہ سال مارچ میں اسلام آباد سے اغواء کر کے مانسہرہ پھلڑہ تھانہ کی حدود میں قتل کر کے جانوروں کی بانڈی میں دفنا دیا گیا تھا اور دوران تفتیش مقتول کی نعش عارف شاہ کے آبائی گھر مانسہرہ سے ملی تھی۔ حمزہ خان کے قتل کا مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج ہے۔ یاد رہے کہ حمزہ ولد گل خطاب ایبٹ آباد نگری بالا کا رہائشی تھا جو سینیٹ آف پاکستان میں سرکاری ملازم تھا۔۔سردار حمزہ کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی وقار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مقتول حمزہ اور مجرم عارف شاہ کے درمیان زمین کا تنازع تھا، کیس کی مجموعی طور پر 40 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق اس کیس کی تفتیش ایس پی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں اسلام آباد پولیس نے کی تھی۔