پاکستان کے پٹرولیم ریفائننگ کے شعبہ نے گزشتہ ایک دھائی کے دوران اپنے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 500 ملین ڈالر سے زائد ڈیویڈنڈ کی ترسیلات کیں

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):پاکستان کے پٹرولیم ریفائننگ کے شعبہ نے گزشتہ ایک دھائی کے دوران اپنے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 500 ملین ڈالر سے زائد ڈیویڈنڈ کی ترسیلات کی ہیں۔ اے کے ڈی ریسرچ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2017 تا 2026 کے دوران شعبہ کی جانب سے بیرون ملک منتقل کئے گئے منافع جات کا حجم 500.4 ملین ڈالر رہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق شعبہ کی …

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):پاکستان کے پٹرولیم ریفائننگ کے شعبہ نے گزشتہ ایک دھائی کے دوران اپنے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 500 ملین ڈالر سے زائد ڈیویڈنڈ کی ترسیلات کی ہیں۔ اے کے ڈی ریسرچ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2017 تا 2026 کے دوران شعبہ کی جانب سے بیرون ملک منتقل کئے گئے منافع جات کا حجم 500.4 ملین ڈالر رہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق شعبہ کی جانب سے مالی سال 2017 کے دوران غیر ملکی شیئر ہولڈرز کو 82.1 ملین ڈالر جبکہ مالی سال 2018 کے دوران 56.7 ملین ڈالر اور مالی سال 2019 میں 48.9 ملین ڈالر کے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی کی گئی ہے ۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2020 میں منافع جات کی منتقلی کا حجم 24.2 ملین ڈالر تک کم ہو گیا کیونکہ کووڈ۔ 19 کی وبا کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں کمی ہوئی اور ریفائننگ کے شعبہ کا منافع کم ہوگیا۔ مالی سال 2021 میں منافع جات کی بیرون ملک منتقلی صفر ہو گئی کیونکہ غیر ملکی زر مبادلہ کی منتقلی پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2022 میں منافع جات کی منتقلی کا حجم 29.9 ملین ڈالر تک بڑھا تاہم مالی سال 2023 میں کوئی منافع بیرون ملک نہ بھیجا گیا کیونکہ پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے مسائل درپیش تھے اور مرکزی بینک نے ڈالر کی بیرون ملک منتقلی پر پابندی عائد کی تھی۔

مالی سال 2024 میں ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کے نتیجہ میں ریفائنری کے شعبہ سے حاصل منافع جات کی بیرون ملک منتقلی کا حجم 124.3 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ 10 سال کے دوران بیرون ملک منتقل کئے گئے سب سے زیادہ منافع جات تھے۔ واضح رہے کہ مالی سال 2025 میں ریفائنری کے شعبہ کے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو منافع جات کی مد میں 83.2 ملین ڈالر جبکہ گزشتہ مالی سال 2026 میں 51.1 ملین ڈالر کے منافع جات بیرون ملک منتقل کئے گئے۔