ایکواڈور میں بڑھتے ہوئےجرائم کے پیشِ نظر 10 صوبوں اور 3 بلدیاتی علاقوں میں 60 روزہ ہنگامی حالت نافذ

ایکواڈور کے صدر ڈینیل نوبوا نے ملک میں بڑھتے ہوئے مجرمانہ تشدد اور سنگین داخلی بدامنی کے پیشِ نظر10 صوبوں اور تین بلدیاتی علاقوں میں 60 روزہ ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔یہ اقدام ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے کیا گیا۔شنہوا کے مطابق ساحلی صوبوں گوایاس، مانابی، سانتا ایلینا، لوس ریوس، ایل اورو اور ایسمیرالڈاس میں گھروں کی تلاشی اور خط و کتابت کے تحفظ سے متعلق آئینی ضمانتیں …

کویٹو۔17جون (اے پی پی):ایکواڈور کے صدر ڈینیل نوبوا نے ملک میں بڑھتے ہوئے مجرمانہ تشدد اور سنگین داخلی بدامنی کے پیشِ نظر10 صوبوں اور تین بلدیاتی علاقوں میں 60 روزہ ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔یہ اقدام ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے کیا گیا۔شنہوا کے مطابق ساحلی صوبوں گوایاس، مانابی، سانتا ایلینا، لوس ریوس، ایل اورو اور ایسمیرالڈاس میں گھروں کی تلاشی اور خط و کتابت کے تحفظ سے متعلق آئینی ضمانتیں معطل کر دی گئی ہیں۔

یہ ہنگامی حالت دارالحکومت کویٹو پر مشتمل شمالی وسطی صوبے پیچنچا، سانتو ڈومینگو دے لوس ساچیلاس، شمالی ایمیزون کے صوبے سوکومبیوس اور جنوبی صوبے ازوائے پر بھی نافذ ہوگی۔اس کے علاوہ صوبہ کوٹوپاکسی کی بلدیہ لا مانا، صوبہ بولیوار کی بلدیہ لاس ناویس اور صوبہ کانیار کی بلدیہ لا ٹرونکال بھی اس حکم نامے میں شامل ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر اس بات کے شواہد موجود ہوں کہ منظم مسلح گروہوں یا مجرمانہ تنظیموں کے ارکان کسی عمارت میں موجود ہیں، یا وہاں اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد یا ممنوعہ اشیاء کی موجودگی کا شبہ ہو، تو سکیورٹی فورسز فوری تلاشی لینے کی مجاز ہوں گی۔اس کے علاوہ حکام کو ممکنہ خطرات کی روک تھام یا انہیں غیر موثر بنانے کے لیے ضروری معلومات جمع کرنے، تجزیہ کرنے اور شناخت کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جبکہ سکیورٹی کارروائیوں کے لیے ضروری سمجھی جانے والی غیر قانونی اشیاء اور خدمات کو عارضی طور پر تحویل میں لینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق ایکواڈور میں حالیہ عرصے کے دوران پرتشدد واقعات، مسلح حملوں اور منظم جرائم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ قتل، بھتہ خوری، اغوا، ڈکیتی اور منشیات کی سمگلنگ نے سماجی بے چینی کو بڑھایا اور معمول کی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ عوام میں پائے جانے والے خوف کو کم کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کے تحت مسلح افواج کی مداخلت ناگزیر ہو گئی ہے۔

مزید خبریں