ای سی او رکن ممالک سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کا اقتصادی تعاون تنظیم سائنس فائونڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس سے خطاب
ای سی او رکن ممالک سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کا اقتصادی تعاون تنظیم سائنس فائونڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی، پانی و خوراک کے عدم تحفظ، توانائی کی منتقلی، صحت عامہ، ڈیجیٹل عدم مساوات اور نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے مشترکہ چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم سائنس فائونڈیشن (ای سی او ایس ایف) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف، وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ، ای سی او کے سیکرٹری جنرل سفیر اسد مجید خان، ای سی او سائنس فائونڈیشن کے صدر پروفیسر سید کمال طیبی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام محمد میمن، اعلیٰ سرکاری حکام اور ای سی او کے رکن ممالک کے نمائندوں نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔
وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے معزز مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ای سی او سائنس فائونڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چھٹے اجلاس کی میزبانی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں سائنسی تحقیق، جدت، علم کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے فروغ کے لیے ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ای سی او خطہ نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، مضبوط تعلیمی روایات اور ابھرتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں سے مالا مال ہے تاہم مشترکہ مسائل کا حل انفرادی کوششوں کے بجائے علاقائی تعاون اور اجتماعی حکمت عملی میں مضمر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول، صنعتی پیداوار میں اضافے اور معاشی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے سائنسی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم، اختراع اور جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے ای سی او سائنس فائونڈیشن کی جانب سے سائنسی تعاون، استعداد کار میں اضافے، سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم، سائنسی روابط، تکنیکی مشاورت اور علاقائی شراکت داری کے فروغ کے لیے کی جانے والی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود مالی اور ادارہ جاتی وسائل کے باوجود فائونڈیشن کی قیادت اور سیکرٹریٹ نے قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف نے کہا کہ ای سی او رکن ممالک کے درمیان سائنسی تعاون میں اضافہ خطے کی پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے ای سی او سائنس فائونڈیشن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران فائونڈیشن کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے اپنا حصہ ادا کرے گا اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر ادارے کی مالی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔
وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے ان ممالک پر بھی زور دیا جنہوں نے تاحال ای سی او سائنس فائونڈیشن کے چارٹر اور اس کے اضافی پروٹوکول کی توثیق نہیں کی کہ وہ جلد از جلد اپنی قومی کارروائی مکمل کریں۔ انہوں نے توثیق کرنے والے رکن ممالک پر بروقت مالی معاونت کی اہمیت بھی اجاگر کی تاکہ فائونڈیشن اپنی علاقائی سرگرمیوں کو موثر انداز میں جاری رکھ سکے۔ انہوں نے میزبان ملک کی حیثیت سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ای سی او سائنس فائونڈیشن پر زور دیا کہ وہ رکن ممالک کی ضروریات کے مطابق نتائج پر مبنی پروگرام ترتیب دے تاکہ خطے میں سائنسی تعاون مزید مستحکم ہو سکے۔
وفاقی وزیر نے اپنے اختتامی کلمات میں اس امید کا اظہار کیا کہ ایک مضبوط اور فعال ای سی او سائنس فائونڈیشن خطے میں سائنسی تعاون، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ میں موثر کردار ادا کرے گی اور اجلاس کی سفارشات رکن ممالک کے باہمی تعاون کو نئی جہت فراہم کریں گی۔








