وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ریلوے کی صلاحیت اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔اڑان پاکستان پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے سے متعلق گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے وژن اور اڑان پاکستان منصوبے کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کے ہدف پر …
ریلوے کی صلاحیت اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے،احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ریلوے کی صلاحیت اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔اڑان پاکستان پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے سے متعلق گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے وژن اور اڑان پاکستان منصوبے کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کے ہدف پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور لاجسٹکس نظام کی بہتری کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت مختلف شعبوں کی ٹرانسفارمیشن کے لیے مشاورتی عمل کے ذریعے تجاویز مرتب کرکے متعلقہ اداروں کو فراہم کی جائیں گی تاکہ جاری اصلاحاتی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 4 برسوں میں مشکل معاشی دور سے نکل کر معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو گیا ہے تاہم اصل ہدف پائیدار معاشی ترقی کا حصول ہے، برآمدات معاشی ترقی کا بنیادی انجن ہیں اور کسی بھی ملک کی برآمدی صلاحیت کا براہ راست تعلق مؤثر اور کم لاگت لاجسٹکس نظام سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت پیداوار کے دو اہم عوامل ہیں تاہم ماضی میں ریلوے مطلوبہ وسائل اور سرمایہ کاری سے محروم رہی جس کے باعث اس کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ریلوے کی بحالی کے لیے اقدامات کا آغاز کیا ہے، نئے لوکوموٹیوز اور رولنگ اسٹاک شامل کیے گئے ہیں ، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی قیادت میں ریلوے اسٹیشنز اور خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ پاکستان ریلوے کے غیر فعال صنعتی یونٹس اور ورکشاپس کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں تاہم ریلوے خصوصاً کارگو لاجسٹکس کی استعداد بڑھانے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ ریلوے کی جدیدکاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کے تحت کراچی سے پشاور تک تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی مین لائن کو جدید بنایا جائے گا اور ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے دوران منصوبے کے تکنیکی ڈیزائن اور تیاری پر نمایاں پیش رفت ہوئی، تاہم بعد ازاں اسے غیر ضروری طور پر متنازع بنایا گیا، جس سے منصوبے میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں ریلوے کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ، اگر 2018 میں تبدیلی نہ لائی جاتی تو آج ہم ایم ایل ون منصوبہ مکمل کر چکے ہوتے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ مالی سال کے دوران یا اس کے اختتام تک منصوبے پر عملی کام شروع ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ میں بھی ریلوے کلیدی کردار ادا کرے گی۔






