اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے کم لاگت رہائشی مارگیج فنانسنگ سکیم میرا گھر میرا آشیانہ کی نظرثانی شدہ فیچرز پرمشتمل سمری کی منظوری دیدی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعہ کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے کم لاگت رہائشی مارگیج فنانسنگ سکیم میرا …
ای سی سی نے میرا گھر میرا آشیانہ سکیم کی نظرثانی شدہ فیچرز پرمشتمل سمری کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے کم لاگت رہائشی مارگیج فنانسنگ سکیم میرا گھر میرا آشیانہ کی نظرثانی شدہ فیچرز پرمشتمل سمری کی منظوری دیدی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعہ کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے کم لاگت رہائشی مارگیج فنانسنگ سکیم میرا گھر میرا آشیانہ (ایم جی ایم اے) کی نظرثانی شدہ فیچرزپرمشتمل سمری پیش کی گئی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سکیم کے آغاز سے اب تک اسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے اورقرضوں کیلئے 10594 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جبکہ رقوم کی ادائیگی کا عمل جاری ہے۔ ای سی سی نے سکیم کی نظرثانی شدہ خصوصیات کی منظوری دے دی جن میں قرض کی حد کو بڑھا کر 10 ملین روپے تک کرنا، اہل رہائشی یونٹس کے سائز کے معیار میں توسیع، صارفین کے لیے یکساں 5 فیصد شرح کا نفاذ، چار سالہ مدت کے دوران ہائوسنگ فنانس کے اہداف میں مرحلہ وار اضافہ، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے طریقہ کار کے تحت عملدرآمد کا تسلسل اور پہلے سے جاری شدہ قرضوں کو بھی نظرثانی شدہ 5 فیصد شرح پر لانا شامل ہے تاکہ یکسانیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ سبسڈی کی ادائیگیاں حقیقی جاری شدہ قرضہ کے مطابق ہوں گی اور انہیں سالانہ مالی تخصیصات کے اندر سمویا جائے گا۔
نظرثانی شدہ فریم ورک کا مقصد کم لاگت رہائشی قرضوں تک رسائی کو وسعت دینا، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اور متوازن رسک شیئرنگ و مارک اَپ سبسڈی ماڈل کے ذریعے پائیدار گھروں کی ملکیت کو فروغ دینا ہے۔ وزارتِ داخلہ و انسداد منشیات کی سمری پر ای سی سی نے نیشنل پروگرام فار انہانسنگ کمانڈ ایریاز اِن بارانی ایریاز آف پاکستان کے آئی سی ٹی جزو کے لیے 7.289 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منطوری دیدی جس کا مقصد بارانی علاقوں میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ریلوے ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری بھی دی جس کے تحت تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 6.61 ارب روپے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعہ بجٹ کوریج فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد مقامی کوئلے کی پاور پلانٹس اور صنعتی شعبوں تک ترسیل کے حوالہ سے سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ توانائی کے تحفظ کو تقویت ملے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ورچوئل شرکت کی جبکہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔








