ای سی سی نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو کی اصولی منظوری دیدی،کئی وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو کی اصولی منظوری دیدی ہے جس کے تحت کارپوریشن کے 30 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے ، اجلاس میں پاکستان کے قیمتی پتھروں کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی قومی پالیسی 2026-2030 سمیت کئی وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کویہاں …

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو کی اصولی منظوری دیدی ہے جس کے تحت کارپوریشن کے 30 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے ، اجلاس میں پاکستان کے قیمتی پتھروں کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی قومی پالیسی 2026-2030 سمیت کئی وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے وزیراعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نیوٹیک کے ذریعے مہارتوں کی ترقی اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں دانش سکولوں کے قیام کے لیے پیش کی گئی سمری کاجائزہ لیاگیا، کمیٹی نے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی صورت میں 3 ارب 91 کروڑ 52 لاکھ 40 ہزار روپے مختص کرنے کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی جانب سے پیش کی گئی دو سمریوں کی بھی منظوری دی گئی جن میں جاری مالی سال کے دوران وزیراعظم آفس کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے 16 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ اور ضلع خیبر کے علاقے شاکس میں فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (شمالی) ہسپتال کی جاری آپریشنل ضروریات کے لیے 48 کروڑ روپے کی منظوری شامل ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے خاتمے کے بعد وزیراعظم آفس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو منتقل کر دی گئی ہے۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ ایف سی کے پی (شمالی) ہسپتال کے لیے منظور شدہ فنڈز ایف سی اہلکاروں، شہداء کے اہل خانہ اور زخمی جوانوں کو بلا تعطل طبی اور آپریشنل سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوں گے۔

اجلاس میں وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط وکوآرڈی نیشن کی جانب سے جاری مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں وزیراعظم قومی صحت پروگرام (چوتھا نظرِ ثانی شدہ) کے لیے 1 ارب 50 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی ، یہ پروگرام جو پہلے صحت سہولت پروگرام کے نام سے جانا جاتا تھا، مکمل طور پر سرکاری فنڈنگ پر مبنی سماجی صحت تحفظ کا منصوبہ ہے جس کا مقصد صحت کی سہولیات تک رسائی کو وسعت دینا اور طبی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔اجلاس میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے پیش کی گئی سمری کی بھی منظوری دی گئی ، اس کے تحت 1989ء کے جموں و کشمیر مہاجرین کے لیے ماہانہ گزارہ الائونس 3 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 6 ہزار روپے فی کس کرنے کی منظوری دی گئی جس کا اطلاق یکم فروری 2026ء سے ہوگا۔ اس مقصد کے لیے 30 جون 2026ء تک کے عرصے کے لیے 57 کروڑ 88 لاکھ 38 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارت کو آئندہ بجٹ سائیکل کے دوران مستقبل کی مالی ضروریات وزارت خزانہ کے ساتھ نمٹانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزارت ریلوے کی جانب سے وزیراعظم اسسٹنس پیکیج کے تحت واجب الادا ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اضافی گرانٹ سے متعلق سمری کاجائزہ لیاگیا، تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے وزیراعظم اسسٹنس پیکیج کے لیے 1 ارب روپے کی منظوری دی اور ریلوے ڈویژن کو اپنی پنشن واجبات کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ ای سی سی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی وزیراعظم اسسٹنس پیکیج سے متعلق مجموعی پالیسی فریم ورک کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سمری پر نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (نافسا) کو فعال بنانے کے لیے 1 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی، یہ اتھارٹی خوراک کے تحفظ، نباتاتی صحت، لائیو سٹاک اور زرعی کیمیکلز سے متعلق ریگولیٹری نگرانی کو بین الاقوامی معیارات اور تجارتی تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اجلاس میں وزارت بحری امور کی جانب سے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی تنظیم نو سے متعلق سمری کی اصولی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت 30 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے اور انتظامی کنٹرول نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کو منتقل کیا جائے گا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ابھرتے ہوئے بحری اور ٹرانس شپمنٹ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں صنعت وپیداوار ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ پاکستان کے قیمتی پتھروں کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی قومی پالیسی 2026-2030 کی بھی منظوری دی گئی، اس پالیسی کا مقصد قیمتی پتھروں کے شعبے کو باضابطہ بنانا، ویلیو ایڈیشن اور جدید کان کنی کے طریقوں کو فروغ دینا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور خصوصاً گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکرٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔