"وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے نتیجے میں نقصانات اور گردشی بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے۔”
بجلی کے شعبے میں اصلاحات سے نقصانات اور گردشی بوجھ میں نمایاں کمی آئی، اویس لغاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاور سیکٹر میں کئے گئے بنیادی اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی نقصانات، گردشی قرضے اور صارفین پر مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے، حکومت بجلی کی خریداری، آئی پی پیز، سولر توانائی، نیٹ میٹرنگ اور ڈسکوز کی نجکاری کے لیے مستقل پالیسی فریم ورک تشکیل دے رہی ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں مزید استحکام اور کمی لانا حکومت کا اہم ہدف ہے۔
اتوار کو نجی ٹی وی کے خصوصی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2018 کے بعد روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے باعث ڈالر میں کیے گئے بجلی پیداوار کے معاہدوں کی لاگت بڑھ گئی،جس کا براہ راست اثر بجلی کی قیمتوں پر پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روپے کی قدر میں اتنی بڑی کمی نہ آتی تو بجلی کے نرخ بھی موجودہ سطح تک نہ پہنچتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے بجلی کے شعبے میں ایسےاصلاحاتی اصول متعارف کرائے ہیں جن کے تحت مستقبل میں حکومت براہ راست نئی بجلی خریدنے کے بجائے مسابقتی مارکیٹ کو کام کرنے دے گی جبکہ قومی گرڈ کو بھی اسی نظام کے مطابق جدید نظام پر استوار کیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری اصلاحاتی پروگرام کا اہم حصہ ہے، وزارت سنبھالنے کے وقت تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات 586 ارب روپے تھے، جو اب کم ہو کر تقریباً 320 ارب روپے رہ گئے ہیں جبکہ ٹیکس دہندگان پر مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے غیر ضروری طور پر ہزاروں میگاواٹ اضافی بجلی خریدنے کے منصوبے روک دیئے ہیں اورمستقبل میں بجلی کی خریداری کے لیے واضح معیار مقرر کیے ہیں تاکہ ضرورت سے زیادہ مہنگی بجلی نہ خریدی جائے۔ سردار اویس لغاری نے کہا کہ حکومت سولر توانائی کی مکمل حمایت کرتی ہےتاہم نیٹ میٹرنگ کے ابتدائی معاہدے اس وقت کئے گئے تھے جب سولر پینلز مہنگے تھے، اب ٹیکنالوجی سستی ہونے کے باعث نرخوں کو حقیقت پسندانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کے فروغ سے صارفین اضافی بجلی ذخیرہ کر سکیں گےجس سے قومی گرڈ پر دباؤ کم ہوگا اور بجلی کے نظام کا استحکام مزید بہتر ہوگا۔آئی پی پیز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے مختلف آزاد بجلی گھروں کےساتھ معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات کیےجس کے نتیجے میں آئندہ برسوں میں کیپیسٹی پیمنٹس کی مدمیں کھربوں روپے کے مالی بوجھ میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد معاہدوں پر عدالتوں میں جائے بغیر باہمی رضامندی سے نظرثانی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بجلی چوری اور ریکوری کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہےاگرچہ چارتقسیم کار کمپنیوں میں مسائل بدستور موجود ہیں۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے میں تاخیر سے نہ صرف تعمیراتی لاگت بڑھتی ہے بلکہ ملک سستی پن بجلی سے بھی محروم ہو جاتا ہے، جس کے باعث ایل این جی، کوئلے یا فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منصوبے کی بحالی کے لیے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ واپڈا کی نئی انتظامیہ اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 2035 تک توانائی کے شعبے کی جامع منصوبہ بندی کر رکھی ہے، جس کے تحت مستقبل میں زیادہ تر نئی بجلی پن بجلی، قابل تجدید ذرائع اور جوہری توانائی سےحاصل کی جائے گی جبکہ تھرمل بجلی میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے موجودہ بجلی گھروں کو مرحلہ وار مقامی کوئلے پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے زرمبادلہ کی بچت اور بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت تقریباً 76 فیصد بجلی مقامی ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے اور حکومتی منصوبہ بندی کے مطابق 2032 یا 2033 تک یہ شرح تقریباً 96 فیصد تک پہنچ جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ بجلی صارفین ہیں، جن میں سے تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت رعایتی نظام کو مزید مؤثر بنانا چاہتی ہے تاکہ سبسڈی صرف حقیقی مستحقین تک محدود رہے۔ سردار اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران صنعت کے لیے بجلی کی قیمت میں تقریباً 35 فیصد جبکہ مختلف گھریلو سلیبس میں 10 سے 16 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کا ہدف آئندہ برسوں میں بجلی کے نرخوں میں مزید استحکام اور بہتری لانا ہے اور موجودہ حالات میں بجلی کی قیمتوں میں مجموعی اضافے کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں صرف ترتیب کوآسان بنایا گیا ہے تاکہ صارفین انہیں بہتر انداز میں سمجھ سکیں، جبکہ بل پر موجود کیو آر کوڈ اسکین کرکے تمام ٹیکسوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سیاسی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی سیاسی وابستگیوں، مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اور پارٹی قیادت کےساتھ اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نہایت محنتی رہنما ہیں،وزیراعظم ہمیں ایک ٹیم کی حیثیت سے بہت زیادہ متحرک رکھتے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی سے جماعت کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے،جنوبی پنجاب کی سیاست کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کا خواہاں ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سردار اویس لغاری نے بتایا کہ طالب علمی کے دوران امریکہ میں انہوں نے پیزا ہٹ میں ملازمت بھی کی تاکہ تعلیمی اخراجات کے علاوہ دیگر ضروریات خود پوری کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں محنت، ذمہ داری اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ حکومت ملک کے تمام پسماندہ علاقوں میں ترقی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔







