"وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن اور شعبہ نفسیات نے پاک انٹرنیشنل ہسپتال کے ساتھ ذہنی صحت، مشترکہ تحقیق، کلینیکل تربیت، طلبہ کی انٹرن شپ، پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز اور کمیونٹی خدمات کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔”
وفاقی اردو یونیورسٹی اور پاک انٹرنیشنل ہسپتال کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
کراچی۔ 02 اگست (اے پی پی):وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (او آر آئی سی )اور شعبہ نفسیات نے پاک انٹرنیشنل ہسپتال(پی آئی ایچ)کے ساتھ ذہنی صحت، مشترکہ تحقیق، کلینیکل تربیت، طلبہ کی انٹرن شپ، پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز اور کمیونٹی خدمات کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔
جاری اعلامیہ کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد جامعہ اور شعبہ صحت کے درمیان موثر اشتراک کو فروغ دینا، ذہنی صحت سے متعلق جدید مسائل پر تحقیق کو وسعت دینا، طلبہ کو عملی و کلینیکل تجربات کے مواقع فراہم کرنا اور معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں ڈائریکٹر اوآر آئی سی ڈاکٹر حنا مدثر، ڈین و انچارج عبدالحق کیمپس ڈاکٹر شاہد اقبال، چیئرپرسن شعبہ نفسیات ڈاکٹر عطیہ خاتون، ریسرچ مینیجر او آر آئی سی اور شعبہ نفسیات کی فیکلٹی ممبر ڈاکٹر شیبہ فرحان نے شرکت کی، جبکہ پاک انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب سے تمغہ امتیاز یافتہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی، میڈیکل ڈائریکٹر، راشد خان جدون، جنرل منیجر ایڈمنسٹریشن اور محترمہ روزینہ دربوالا نے ادارے کی نمائندگی کی۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، کلینیکل تربیت، طلبہ کی انٹرن شپس، پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں، سیمینارز، ورکشاپس اور کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کے فروغ کے اقدامات میں باہمی تعاون کریں گے۔ دونوں اداروں کے نمائندگان نے اس امر پر زور دیا کہ ذہنی صحت اب محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک اہم صحتِ عامہ، تعلیمی، معاشرتی اور معاشی چیلنج بن چکی ہے۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، خاندانی و سماجی دبائو، تعلیمی مسائل، تنہائی، تشدد، قدرتی و انسانی بحران اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی جیسے عوامل ذہنی دبائو، اضطراب اور ڈپریشن میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی ادار صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا ہر سات میں سے ایک فرد کسی نہ کسی ذہنی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، جبکہ اضطراب اور ڈپریشن عام ذہنی مسائل میں شامل ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے مختلف تحقیقی مطالعات نے ذہنی دبائو، اضطراب اور ڈپریشن کے نمایاں بوجھ کی نشاندہی کی ہے، جبکہ ایک پاکستانی تحقیقی مطالعے میں عمومی آبادی میں ڈپریشن اور اضطراب کی مجموعی شرح تقریبا 33.6 فیصد رپورٹ کی گئی ہے، تاہم یہ موجودہ قومی سطح کا جامع سروے نہیں، اس لیے پاکستان میں ذہنی امراض کی موجودہ صورتحال جاننے کے لیے بڑے پیمانے پر تازہ قومی تحقیق کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان، تعلیمی کارکردگی، روزگار، پیداواری صلاحیت اور مجموعی معاشرتی بہبود پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں جامعات، طبی اداروں اور تحقیقی مراکز کے درمیان اشتراکِ عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ ذہنی صحت کے جدید مسائل کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی، تحقیق، روک تھام اور موثر علاج کے لیے مربوط حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ دونوں اداروں کے نمائندگان نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری طلبہ کو جدید کلینیکل ماحول میں سیکھنے اور عملی تجربات کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے گی، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی اور پاکستان میں معیاری ذہنی صحت کی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تقریب کے اختتام پر مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ تبادلہ کیا گیا، جبکہ دونوں اداروں نے تحقیق، جدت، معیاری تعلیم، کلینیکل تربیت اور کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔







