اے پی جے سی سی آئی کی قیادت کی نومنتخب ڈی جی ٹی ڈی اے پی کو مبارکباد، پاکستان۔آذربائیجان تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال

اے پی جے سی سی آئی کی قیادت کی نومنتخب ڈی جی ٹی ڈی اے پی کو مبارکباد، پاکستان۔آذربائیجان تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔4مئی (اے پی پی):آذربائیجان-پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اے پی جے سی سی آئی) کے پیٹرن اِن چیف احسن ظفر بختاوری نے سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی)اور چیئرمین اے پی جے سی سی آئی ظفر بختاوری کے ہمراہ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اسلام آباد کے نومنتخب ڈائریکٹر جنرل عبدالسلام شاہ سے ملاقات کی اور انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ آذربائیجان پاکستانی برآمد کنندگان کے لئے ایک ابھرتی ہوئی اور امید افزا ء مارکیٹ ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود بہترین سفارتی تعلقات کو بامقصد تجارتی اور سرمایہ کاری کے نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اے پی جے سی سی آئی اور ٹی ڈی اے پی مشترکہ طور پر باکو میں پاکستان سنگل کنٹری ایگزیبیشن یا میڈ اِن پاکستان ایکسپو کا انعقاد کریں تاکہ پاکستانی مصنوعات اور خدمات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی نمائش پاکستانی برآمد کنندگان کو آذربائیجان میں کاروباری مواقع تلاش کرنے اور وہاں کے خریداروں، ڈسٹری بیوٹرز اور متعلقہ کاروباری اداروں سے براہِ راست روابط قائم کرنے کا عملی پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہے۔

احسن ظفر بختاوری نے ڈائریکٹر جنرل ٹی ڈی اے پی کو آگاہ کیا کہ اے پی جے سی سی آئی پہلے ہی آذربائیجان کے لئے دو کاروباری وفود کا اہتمام کر چکی ہے جو نجی شعبے نے اپنے طور پر سپانسر کئے تھے۔ انہوں نے آذربائیجان کے آئندہ کاروباری وفد کے لیے ٹی ڈی اے پی کے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سطح پر سہولت کاری سے سنجیدہ برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کی زیادہ شرکت ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی کاروباری شخصیات آذربائیجان میں تجارتی مواقع کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش رکھتی ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ آذربائیجان میں جلد از جلد ایک کمرشل کاؤنسلر یا ٹریڈ آفیسر تعینات کیا جائے تاکہ پاکستانی کمپنیوں کو مارکیٹ انٹیلی جنس، تجارتی اعداد و شمار، ریگولیٹری رہنمائی اور بزنس میچ میکنگ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان-آذربائیجان ترجیحی تجارتی معاہدے کے دائرہ کار میں اعلیٰ قدر اور برآمدی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات کو شامل کرنے پر غور کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لئے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ ہوگا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ٹی ڈی اے پی عبدالسلام شاہ نے تجاویز کو سراہتے ہوئے اے پی جے سی سی آئی کو مشورہ دیا کہ آذربائیجان میں نمائش کے انعقاد کے لئے باقاعدہ سفارشات جمع کرائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی اے پی ہر سال تقریبات اور نمائشوں کا سالانہ کیلنڈر ترتیب دیتا ہے لہٰذا آذربائیجان سے متعلق تجاویز کو آئندہ تجارتی سرگرمیوں میں شمولیت کے لئے زیر غور لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اے پی جے سی سی آئی کو یہ بھی ترغیب دی کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے لئے ٹھوس تجاویز ارسال کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی اے پی ایسے بامقصد اقدامات کی معاونت کے لئے تیار ہے جو پاکستانی برآمد کنندگان کو نئی منڈیوں تک رسائی دلانے اور پاکستان کے برآمدی دائرہ کار کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان میں برآمدی صلاحیت رکھنے والی پاکستانی مصنوعات کی ایک فہرست اے پی جے سی سی آئی کے ساتھ شیئر کی جائے گی تاکہ کاروباری برادری حقیقت پسندانہ اور زیادہ امکانات رکھنے والے مواقع پر توجہ مرکوز کر سکے۔ملاقات میں افریقی منڈیوں میں پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا خصوصاً نیوٹراسیوٹیکلز، اسکن کیئر مصنوعات اور دیگر ویلیو ایڈڈ شعبہ جات کے حوالے سے۔ اس موقع پر کہا گیا کہ اگرچہ ان مصنوعات میں بڑی صلاحیت موجود ہے تاہم افریقی ممالک میں مارکیٹ تک رسائی اور ڈسٹری بیوشن کے لئے مؤثر حکمت عملی، مقامی شراکت داروں اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت ہے۔

عبدالسلام شاہ نے تجویز دی کہ اے پی جے سی سی آئی اس حوالے سے بھی عملی تجاویز پیش کرے تاکہ متعلقہ اداروں اور سٹیک ہولڈرز کو متحرک کیا جا سکے۔ ڈائریکٹر جنرل ٹی ڈی اے پی نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے تاکہ مارکیٹ تک رسائی، برآمدات کے فروغ کی حکمت عملی اور آذربائیجان و افریقی ممالک کو پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے عملی اقدامات پر گفتگو کی جا سکے۔

ظفر بختاوری نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتی ہوئی رابطہ کاری، خصوصاً براہِ راست پروازوں کی دستیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پروازوں کی تعداد میں مزید اضافہ کاروباری سفر، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ آذربائیجان کے لئے سرکاری اور کاروباری وفود، بشمول کسی بھی اعلیٰ سطحی دورے میں، اے پی جے سی سی آئی کے نمائندگان کو شامل کیا جائے تاکہ نجی شعبہ فالو اپ اور تجارتی فروغ میں فعال کردار ادا سکے۔

مزید خبریں