پاکستان میں امریکی مشن نے امریکہ کی آزادی کی اڑھائی سو سالہ سالگرہ منائی اور اس اہم سنگِ میل کے موقع پر آزادی، وقار اور حقِ خود ارادیت کے اُن اصولوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے گزشتہ ڈھائی صدیوں کے دوران دنیا بھر کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے اور پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا جشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):پاکستان میں امریکی مشن نے امریکہ کی آزادی کی اڑھائی سو سالہ سالگرہ منائی اور اس اہم سنگِ میل کے موقع پر آزادی، وقار اور حقِ خود ارادیت کے اُن اصولوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے گزشتہ ڈھائی صدیوں کے دوران دنیا بھر کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
جمعرات کو امریکی سفارت خانے سے جاری بیان کے مطابق امریکی یومِ آزادی کی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی مشن کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے اعلانِ آزادی کی گہری اہمیت اور گزشتہ دو برسوں کے دوران امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں آنے والی غیرمعمولی تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ احترام، باہمی مفادات اور سلامتی و خوشحالی کے مشترکہ نصب العین پر مبنی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو حقیقی اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پروان چڑھانے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بہادری اور نتائج پر مرکوز قیادت کا اہم کردار رہا ہے۔
پاکستانی قیادت کے ساتھ صدر ٹرمپ کی ذاتی سطح پر مصروفیت کو اجاگر کرتے ہوئے ناظم الامور نے کہا کہ یہ امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر حقیقی ذاتی روابط کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ ناظم الامور نیٹلی بیکر نے 1978کے ایرانی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کا پہلی بار اسلام آباد میں انعقاد ہونے پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے باعث دو مخالف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے پاکستان کو منفرد حیثیت حاصل تھی۔یہ پاکستان کا لمحہ تھا اور پاکستان اس پر پورا اترا۔
ناظم الامور نیٹلی بیکر نے پاکستان کے عوام اور مختلف علاقوں کا بھی گرمجوشی سے ذکر کیا، جن میں تقریباً دو دہائیوں بعد لاہور کے تاریخی بسنت پتنگ میلے کی بحالی میں شرکت اور اندرونِ سندھ کی کم معروف برادریوں کے دورے شامل ہیں۔ انہوں نے سفارتکاری میں کھیلوں کے مؤثر کردار کی اہمیت بھی اجاگر کی اور کہا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کا اہم کردار ہے کیونکہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے مقابلوں میں استعمال ہونے والی فٹبالز پاکستان میں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امسال موسمِ گرما میں فٹبال کے خوبصورت کھیل سے لطف اندوز ہونے والے شائقین درحقیقت پاکستانی ہنرمندی اور مہارت کی ایک بہترین مثال بھی دیکھ رہے ہوں گے۔
اس تقریب نے امریکی اور پاکستانی عوام کی مشترکہ امنگوں کو اجاگر کیا اور دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کو نمایاں کیا۔ تقریب کا ایک خصوصی حصہ لبرٹی بیل کی سولہ نقول کی نمائش تھی جن پر امریکی سفارت خانے کے لنکن کارنرز نیٹ ورک کے ذریعے پاکستانی فنکاروں اور طلبہ نے رنگ بھر کر آزادی، جمہوریت اور مواقع کے تصورات کو منفرد انداز میں پیش کیا۔ناظم الامور نیٹلی بیکر نے اپنے اختتامی کلمات میں امریکہ اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ہم امریکہ کے سنہری دور میں داخل ہو رہے ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی شراکت داری کا سب سے اہم باب ابھی شروع ہوا ہے اور بہترین وقت ابھی آنا باقی ہے۔







