فیصل آباد ۔ 24 نومبر (اے پی پی):بائیو فرٹیلائزر اور کمپوسٹ میں 13 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے ملک کا 175 بلین روپے مالیت کی کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے جبکہ فصلات کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے فاسفورس کے مؤثر استعمال کو فروغ دینابھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہارزرعی ماہرین نے اینگرو فرٹیلائزرز اورجامعہ زرعیہ کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی …
بائیو فرٹیلائزرو کمپوسٹ میں 13 ارب کی سرمایہ کاری سے175 بلین روپے کی کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 24 نومبر (اے پی پی):بائیو فرٹیلائزر اور کمپوسٹ میں 13 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے ملک کا 175 بلین روپے مالیت کی کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے جبکہ فصلات کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے فاسفورس کے مؤثر استعمال کو فروغ دینابھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہارزرعی ماہرین نے اینگرو فرٹیلائزرز اورجامعہ زرعیہ کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان ”فاسفورس: دی پوشیدہ فوڈ سکیورٹی اینڈ کلائمیٹ سمارٹ فارمنگ” سے خطاب میں کیا۔مراکش کی کمپنی نیوٹری کراپ کی ما رکیٹنگ ڈائریکٹر سیہام جبران نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو بیک وقت غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا سامنا ہے اور اعلیٰ معیار کی فصل کی پیداوار کو برقرار رکھنے کیلئے متوازن کھاد کے ذریعے مٹی کی صحت کو بحال کرنا ضروری ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد نوید نے کہا کہ عالمی غذائی تحفظ کا انحصار مائنڈ راک فاسفیٹ پر ہے جو کہ ایک ناقابل تجدید وسیلہ ہے جو تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ بائیو فرٹیلائزر کیمیائی استعمال میں 25 فیصد کمی کر سکتے ہیں اورپاکستان کے تناظر میں 45.5 ملین ایکڑ رقبہ پر 415 ارب روپے کی بچت کر سکتے ہیں۔گندم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اور چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر جاوید احمد نے بتایا کہ ان کے ادارے نے گزشتہ پانچ سالوں میں فصلوں کی 106 اقسام کامیابی سے جاری کی ہیں جن میں گندم کی 11 اقسام بھی شامل ہیں جن سے سالانہ 180 ارب روپے کا اضافی فائدہ ہوا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد یٰسین نے پانی کے استعمال کے خطرناک رجحانات کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کلو چاول پیدا کرنے کے لیے 4000 لیٹر اور گندم کے لیے 1400 لیٹر درکار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 2030 تک بڑی فصلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے رکی ہوئی ترقی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر راؤ زاہد عباس ڈائریکٹر ریسرچ،پروفیسر ڈاکٹر آصف کامران رجسٹرار، ڈاکٹر ساجد الرحمان، ڈاکٹر عابد نیاز، ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر ذوالفقار غوری، نعیم فرخ، عامر غفور، کاشان اسلم، سید شوزاب گردیزی، اعجاز احمد، ڈاکٹر خضر، ڈاکٹر عمران، صبا ملک و دیگر نے بھی خطاب کیا۔








