معروف تجزیہ کار جویریہ کرن نے کہا ہے کہ ادویہ سازی کے شعبے میں بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے مرض کی تشخیص ، ادویات کی تیاری و ترسیل اور علاج معالجے کے حوالے سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں
بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے مرض کی تشخیص ، ادویات کی تیاری و ترسیل اور علاج معالجے بارے انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جویریہ کرن
اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):معروف تجزیہ کار جویریہ کرن نے کہا ہے کہ ادویہ سازی کے شعبے میں بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے مرض کی تشخیص ، ادویات کی تیاری و ترسیل اور علاج معالجے کے حوالے سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ بائیو ٹیکنالوجی انسانی فلاح کےلئے مصنوعات کی تیاری میں جانداروں، خلیات اور حیاتیاتی نظام کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ادویہ سازی کے شعبے میں اس کا اطلاق حیاتیاتی عمل کے ذریعے دوائیوں کی تیار پر ہوتا ہے جس سے ویکیسنز، مونو کلونل اینٹی باڈیز، ری کمبیئٹ پروٹینز، جین تھراپی اور خلیاتی علاج کیا جاتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے حیاتیاتی انجینئرنگ ، جینو مکس، پروٹیومکس اور بائیو انفارمیٹکس جیسی جدید تکنیکس کے ذریعے اس عمل کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیو ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خوبی ادویہ کی دریافت میں رونما ہونے والا انقلاب ہے کیونکہ جینومکس کے ذریعے سائنسدان کسی جاندار کے تمام جینز کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے بیماری پیدا کرنے والے جینز اور ممکن ادویاتی اہداف کی شناخت کی جاتی ہے۔ اسی طرح بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے پروٹیومکس کی ساخت اور افعال کو بھی سمجھنے میں مدد حاصل ہوتی ہے جو حیاتیاتی عمل اور بیماریوں کے علاج میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں بائیو انفارمیٹکس وسیع حیاتیاتی ڈیٹا کے ذریعے علاج کے نئے اہداف کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے ادویہ سازی اور علاج معالجہ کے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب کامیابی کے امکانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بائیو ٹیکنالوجی نے ادویہ کی ایک نئی قسم یعنی بائیو فارما سوٹیکلز یا بائیو لوجیکس کی ترقی کو بھی ممکن بنا دیا ہے جن میں انسولین، گروتھ ہارمونز، ویکسینز اور مونو کلونل اینٹی باڈیز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے ادویہ کی ترسیل کے نظام میں بھی بہتری ہوئی ہے جبکہ متعدی امراض کے خلاف جنگ میں بھی ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے۔ مزید برآں بائیو ٹیکنالوجی سے ادویہ سازی کے شعبہ کی پیداوار کو زیادہ موثر اور ماحول دوست بنایا جاسکتا ہے









