بار اور بینچ کے درمیان مسلسل مکالمہ عدالتی اصلاحات اور نظام انصاف کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے بار اور بینچ کے درمیان مسلسل اور بامعنی مکالمہ ناگزیر ہے جبکہ نوجوان وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔

اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے بار اور بینچ کے درمیان مسلسل اور بامعنی مکالمہ ناگزیر ہے جبکہ نوجوان وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز کے وائس چیئرمینز اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمینز کے ساتھ منعقدہ مشاورتی اجلاس کے دوران کہی۔اجلاس میں پاکستان بار کونسل سمیت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد اور آزاد کشمیر بار کونسلز کی قیادت نے شرکت کی۔ بار نمائندگان نے عدالتی اصلاحات کے اقدامات کو سراہا اور مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام میں بہتری کے لیے صرف انتظامی اقدامات کافی نہیں بلکہ قانونی برادری کی فعال شمولیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلا کی تربیت اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اولین ترجیح ہے۔انہوں نے بتایا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے تحت جاری کنٹینیوئنگ لیگل ایجوکیشن پروگرامز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب بنایا گیا ہے جبکہ آن لائن کورسز بار کونسلز کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وکلا ان سے استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فزیکل تربیتی پروگرامز بھی جاری رہیں گے اور جولائی 2026ء میں سندھ کے وکلاکے لیے خصوصی تربیتی سیشن منعقد کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران بار نمائندگان نے ڈگریوں کی تصدیق، ججز کے تبادلوں کے طریقہ کار اور ایک جیسے مقدمات میں متضاد عدالتی فیصلوں جیسے امور پر نشاندہی کی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے معاملات کو مناسب فورمز پر لے جانے کے لیے لا اینڈ جسٹس کمیشن آ ف پاکستان کو بھیجا جائے تاکہ ان کا موثر جائزہ لیا جا سکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ اور بار کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنا کر ہی انصاف تک رسائی، قانونی آگاہی اور ایک آزاد و موثر عدالتی نظام کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

 

مزید خبریں