چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورت موثر پالیسی سازی، عدالتی طریقہ کار میں بہتری اور انصاف تک رسائی مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے، نئے عدالتی سال کی ترجیحات اور عملی طریقہ کار کی تشکیل کے لیے بینچ، بار اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مسلسل مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
بار سے بامعنی مشاورت عدالتی نظام میں بہتری کے لیے ناگزیر ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اگست (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورت موثر پالیسی سازی، عدالتی طریقہ کار میں بہتری اور انصاف تک رسائی مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے، نئے عدالتی سال کی ترجیحات اور عملی طریقہ کار کی تشکیل کے لیے بینچ، بار اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مسلسل مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے یہ بات جمعرات کو نئے عدالتی سال کے آغاز سے قبل سپریم کورٹ بار روم کے دورے کے موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان، وکلاء اور ایڈووکیٹس آن ریکارڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
چیف جسٹس پاکستان نے بار کے ارکان کو سپریم کورٹ کے پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے دستیاب آن لائن ڈیجیٹل خدمات کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ ان سہولیات کا مقصد عدالتی خدمات کو مزید آسان، موثر اور صارف دوست بنانا ہے۔بار کو سپریم کورٹ کی مقدمات کی فکسیشن پالیسی، مقدمات کی ترجیح اور سماعتوں کی شیڈولنگ کے رہنما اصولوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
سپریم کورٹ بار کے ارکان نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے اختیار کیے گئے جامع اور مشاورتی طریقہ کار کو سراہا اور نئے عدالتی سال کی منصوبہ بندی میں بار کو شامل کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ بار کے ارکان نے مقدمات کی فکسیشن، ترجیح اور شیڈولنگ سے متعلق مختلف تجاویز بھی پیش کیں جنہیں غور کے لیے نوٹ کر لیا گیا۔نیا عدالتی سال 14 ستمبر 2026ء سے شروع ہوگا۔ سپریم کورٹ کے مطابق بار سے مشاورت نئے عدالتی سال کی ترجیحات اور عملی طریقہ کار کو تشکیل دینے کے وسیع تر ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہے۔







