پاکستان اور ناروے کا اعلیٰ سطح کے روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ، تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال

پاکستان اور ناروے نےاعلیٰ سطح کے روابط برقراررکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان بندرگاہی رابطوں اور بحری جہاز رانی کے روابط، ناروے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس برآمدات اور اوسلو انوویشن ویک جیسے پروگراموں میں پاکستانی کمپنیوں کی بڑھتی …

اسلام آباد۔13اگست (اے پی پی):پاکستان اور ناروے نےاعلیٰ سطح کے روابط برقراررکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان بندرگاہی رابطوں اور بحری جہاز رانی کے روابط، ناروے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس برآمدات اور اوسلو انوویشن ویک جیسے پروگراموں میں پاکستانی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت شامل ہے۔ دونوں فریقوں نے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور پاکستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان مشترکہ تعاون کے اعلامیہ کے تحت تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

جمعرات کو وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے دورے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے تجارتی روابطہ کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے 13 اگست کو پاکستان کا دورہ کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کا وزارت خارجہ اسلام آباد میں استقبال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات کیے۔دونوں وزرائے خارجہ نے اس امر کا ذکر کیا گیا کہ یہ دورہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان پہلے سے جاری قریبی اور مسلسل رابطوں کا تسلسل ہے جن میں 13 مارچ اور 7 اپریل کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے جس کے دوران علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ دونوں وزراء نے اعلیٰ سطح کے باقاعدہ رابطوں کو برقرار رکھنے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

وزرائے خارجہ نے دوطرفہ سیاسی مشاورت کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا اور اسے دونوں وزارتوں کے درمیان مسلسل روابط کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ دونوں فریقوں نے 14ویں دور کی دوطرفہ سیاسی مشاورت دسمبر 2026ء میں اسلام آباد میں منعقد کرنے کے عزم کی تصدیق کی۔اقتصادی امور کے حوالے سے دونوں رہنمائوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جس میں دونوں ممالک کے درمیان بندرگاہی رابطوں اور بحری جہاز رانی کے روابط، ناروے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس برآمدات اور اوسلو انوویشن ویک جیسے پروگراموں میں پاکستانی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت شامل ہے۔ دونوں فریقوں نے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور پاکستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان مشترکہ تعاون کے اعلامیے کے تحت تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے ’’ڈبلیو ٹی او کو مرکز‘‘ رکھتے ہوئے کثیرالجہتی تجارتی نظام کی اہمیت پر اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ڈبلیو ٹی او میں اصلاحات انتہائی اہم ہیں اور انہیں بلا تاخیر ’’رکن ممالک کی قیادت میں چلنے والے عمل‘‘ کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے قابل تجدید توانائی، کان کنی، آف شور تیل و گیس، آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس اور جہاز توڑنے و ری سائیکلنگ کے شعبوں کو ناروے کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ممکنہ شعبوں کے طور پر پیش کیا۔

دونوں وزرائے نے یکم اپریل 2026ء کو دونوں ممالک کی وزارتوں برائے موسمیاتی امور کے درمیان پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے اہداف کے حصول کے لیے تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پاکستان نے قابل تجدید توانائی، پن بجلی، بائیو گیس اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی شعبے میں ناروے کی مہارت سے مزید استفادہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبے میں پاکستان کے تجربے اور مہارت اور ہانگ کانگ انٹرنیشنل کنونشن کی پاکستان کی توثیق کے تناظر میں، دونوں فریقوں نے SENSREC-DW Pakistan منصوبے کے تحت جاری کام اور ناروے کے پرچم بردار بحری جہازوں پر خدمات انجام دینے والے بحری اہلکاروں کی تربیت اور سرٹیفکیشن کی منظوری سے متعلق حال ہی میں طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا نوٹس لیا۔ دونوں رہنمائوں نے اس بنیاد پر مزید کام کرنے بشمول گرین شپنگ کے شعبے میں تعاون کی گنجائش پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے 1969ء سے جاری پاکستان کے ساتھ ناروے کی ترقیاتی شراکت داری کو مثبت طور پر اجاگر کیا اور تعلیم، صنفی مساوات، انسانی حقوق، غذائی تحفظ اور موسمیاتی موافقت پر اس کی مسلسل توجہ کو سراہا۔تعلیم کے شعبے میں دونوں فریقوں نے نارویجن پارٹنرشپ پروگرام فار گلوبل اکیڈمک کوآپریشن (NORPART) اور ترقی پذیر ممالک کے طلبہ کے لیے ناروے کی جانب سے حال ہی میں شروع کیے گئے سکالرشپ پروگرام کی اہمیت کو تسلیم کیا، خصوصاً اس تناظر میں کہ پاکستانی طلبہ کی ایک قابل ذکر تعداد ناروے کی جامعات میں زیرِ تعلیم ہے۔ دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزرائے خارجہ نے ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہا جو گزشتہ برسوں کے دوران ناروے کی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ دونوں ممالک نے پارلیمانی روابط کا خیرمقدم کیا جن میں بین الپارلیمانی یونین اور حال ہی میں قائم ہونے والا پاکستان-ناروے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ بھی شامل ہیں۔دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی جانب سے فراہم کی جانے والی حمایت کو سراہا اور مختلف بین الاقوامی اداروں میں ایک دوسرے کے امیدواروں کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے مستقبل میں کثیرالجہتی فورمز پر باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستان نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر ناروے کے وزیر خارجہ کو بریفنگ دی، جبکہ ناروے کی جانب سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کا اظہار کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہر قسم اور ہر شکل کی دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس امر کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کو دھمکانے یا ان پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کو درپیش سنگین سکیورٹی خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے ناروے کی جانب سے کشیدگی کم کرنے، سکیورٹی خدشات دور کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے جاری کوششوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ دونوں ممالک نے انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں، تعلیم تک رسائی اور عوامی زندگی میں شرکت نیز آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان نے ناروے کو ایران-امریکہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ناروے کی جانب سے علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری ثالثی کردار کو سراہا گیا جس کے نتیجے میں 17 جون 2026ء کو فریقین کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے اور اس کے بعد اعلیٰ سطح کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوا۔ ناروے کی جانب سے خطے میں متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے رابطوں سے بھی آگاہ کیا گیا اور جاری تنازع کے پرامن اور پائیدار حل کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

دونوں ممالک نے فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام فریق جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، انسانی امداد کی محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائیں اور دشمنی کے مستقل خاتمے کے لیے کام کریں۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر طویل مدتی اور پائیدار امن کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔دونوں فریقوں نے بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

فریقین نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کی پاسداری اور امن و خوشحالی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ عزم پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے UN80 Initiative کے ذریعے اقوام متحدہ کو زیادہ موثر، جوابدہ اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوششوں کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا اپنے اور اپنے وفد کے لیے پرتپاک استقبال اور میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے نے اعلیٰ سطح کے مسلسل روابط کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان موجود مثبت رفتار کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔