بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کی قید کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کی قید کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کی قید (سولیٹری کنفائنمنٹ) کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواستوں پر فریقین کے تفصیلی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔جسٹس خادم حسین سومرو نے فریقین کو اضافی عدالتی نظائر خطی صورت میں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ جاری کرے گی۔سماعت کے دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک اور درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے تنہائی کی قید کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ جیل حکام کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی میں سے کسی کو بھی تنہائی کی قید میں نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں قیدیوں کو بی کلاس کے قیدیوں کے لیے مقرر کردہ سہولیات سے بھی زائد مراعات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں بانی پی ٹی آئی کی سیاسی حیثیت کے پیش نظر کتب، اخبارات، طبی دیکھ بھال اور خصوصی سکیورٹی انتظامات شامل ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ جیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان کو دن کے وقت سات سیلز کے احاطے تک رسائی حاصل ہے، انہیں اخبارات اور 500 سے زائد کتب فراہم کی گئی ہیں اور وہ رات کو قید کے مقررہ وقت تک اس مخصوص علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک سزا یافتہ قیدی کو ان کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے جبکہ بشریٰ بی بی کو بھی جیل قوانین کے مطابق سکیورٹی کے ساتھ الگ رہائش گاہ فراہم کی گئی ہے۔

تاہم بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ رپورٹ میں بتائی گئی سہولیات کے باوجود ان کے موکلین کو حقیقت میں الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اہلخانہ، وکلاء اور دیگر افراد سے ملاقاتوں پر پابندیاں ذہنی اذیت کے مترادف ہیں اور انہوں نے جیل حکام کی رپورٹ کی صداقت کو چیلنج کیا۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنے وکلاء اور اہلخانہ سے باقاعدہ ملاقاتیں، ان کے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلی فونک رابطہ اور عمران خان و بشریٰ بی بی دونوں کے مناسب طبی معائنے کا حکم دیا جائے۔

انہوں نے جیل کے حالات کے معائنے کے لیے وکلاء کا ایک پینل تشکیل دینے کی بھی تجویز دی۔سماعت کے دوران جسٹس سومرو نے ریمارکس دیئے کہ جیل مینوئل کے تحت طے شدہ سہولیات قیدیوں کو ملنی چاہئیں اور ہدایت کی کہ اگر فریقین عدالتی نظائر کا سہارا لینا چاہتے ہیں تو انہیں تحریری طور پر جمع کرائیں۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کی قید کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید خبریں