بجٹ 2026-27 مختصر المدتی استحکام سے درمیانی مدت کی معاشی توسیع کی جانب پیش رفت کا عکاس ہے ، خرم شہزاد

بجٹ 2026-27 مختصر المدتی استحکام سے درمیانی مدت کی معاشی توسیع کی جانب پیش رفت کا عکاس ہے ، خرم شہزاد

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہاکہ بجٹ 2026-27 مختصر المدتی استحکام سے درمیانی مدت کی معاشی توسیع کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے ، جس میں عوامی ریلیف اور مالیاتی ذمہ داری کو بھی ترجیح دی گئی ہے، ہماری توجہ محصولات کے معیار کو بہتر بنانے، شفافیت بڑھانے، ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مالیاتی گنجائش پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے سی سی اے (ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) کے زیر اہتمام وفاقی بجٹ 2026-27 کے اثرات کا جائزہ لینے اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کے لیے درکار ساختی اصلاحات پر غور کرنے کے مقصد سے ’’پاکستان: بقا سے خوشحالی تک‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پوسٹ بجٹ ڈائیلاگ 2026-27سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں اعلیٰ حکومتی عہدیداران، کاروباری رہنما، ماہرینِ اقتصادیات اور مالیاتی شعبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔خرم شہزاد نے کہاکہ پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب ہماری ترجیح اس استحکام کو مسلسل معاشی رفتار میں تبدیل کرنا ہے۔

حکومت ٹیکس نظام کو مکمل طور پر فیس لیس ماڈل کی جانب منتقل کر رہی ہے جبکہ تعمیل اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنا کر ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ کم ہو، تنخواہ دار طبقے، کاروبار، صنعتوں، برآمد کنندگان، ٹیکنالوجی، ہاؤسنگ و تعمیرات اور زرعی شعبے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر سرکاری، نجی اور اکاؤنٹنسی شعبے کے نمائندوں نے مالیاتی پالیسی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی معاشی مضبوطی اور عالمی مسابقت بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

شرکاء نے پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ساختی اصلاحات میں تیزی، ٹیکس نیٹ کی توسیع، ضابطہ جاتی ہم آہنگی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ گفتگو میں ڈیجیٹل تبدیلی، خدمات کی برآمدات، کاروباری سرگرمیوں اور جدت طرازی کو طویل المدتی معاشی استحکام کے اہم ستون قرار دیا گیا، جہاں پیشہ ور اکاؤنٹنٹس کا کردار نہایت اہم ہے۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری محمد اظفر احسن نے کہاکہ پاکستان صرف ٹیکسوں کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا بلکہ اسے سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کرنا ہوگی۔ مستقبل ایک ایسے مسابقتی نظام کی تشکیل میں ہے جو سرمایہ کاری کو راغب کرے، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور برآمدات کو فروغ دے۔

سرمایہ کاروں کو مستقل مزاجی، پیش گوئی کے قابل پالیسیوں اور کاروبار میں آسانی کی ضرورت ہوتی ہے۔شواہد پر مبنی پالیسی مکالمے کا مؤثر پلیٹ فارم کے عنوان سے منعقدہ پینل مباحثے کی نظامت المیزان انویسٹمنٹس کی ہیڈ آف ریسرچ امرین سورانی ایف سی سی اے نے کی۔ پینل میں آئی سی ایم اے پاکستان کے صدر عظیم حسین صدیقی، پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی، دی بی پی او کے بانی شراکت دار جواد چغتائی ایف سی سی اے، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف شفیع اور اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی (PwC پاکستان) کے پارٹنر طحہ بقائی شامل تھے۔

پینل نے وفاقی بجٹ کے وسیع معاشی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کاروبار دوست ماحول کی تشکیل، ٹیکس نیٹ کی توسیع، پالیسیوں میں تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ اور علاقائی و عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور اختتامی کلمات پر ہوا، جن میں پالیسی سازوں، کاروباری اداروں اور مالیاتی شعبے کے درمیان تعمیری مکالمے کو فروغ دینے کے لیے اے سی سی اے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ اسد حمید خان نے کہا کہ پاکستان کی اگلی معاشی منزل مسابقت، پیداواری صلاحیت اور شمولیت پر مبنی ہونی چاہیے۔ بجٹ محض ایک مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ قومی ترجیحات کا اظہار ہوتا ہے۔

پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ڈیجیٹلائزیشن کو تیز کریں، برآمدات کو مضبوط بنائیں، معیشت کو دستاویزی شکل دیں اور ایسا کاروباری ماحول پیدا کریں جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھائے۔ اکاؤنٹنسی کا شعبہ شفافیت، بہتر طرز حکمرانی اور اعتماد کے ذریعے اس اعتماد کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، جو ہر مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے سی سی اے اپنے ’’پوسٹ بجٹ ڈائیلاگ‘‘ جیسے اقدامات کے ذریعے پالیسی سازوں، کاروباری اداروں اور مالیاتی ماہرین کے درمیان مؤثر اور غیر جانبدارانہ مکالمے کا ایک معتبر پلیٹ فارم فراہم کرتا رہے گا، جو شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور جامع معاشی ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

مزید خبریں