سائنسدانوں نے بحر ہند میں 5.3 ملین سال پرانا وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت کر لیا ہے ، جسے وہیل نیکرو پولس(whale necropolis)کا نام دیا گیا ہے۔
بحر ہند میں 5.3 ملین سال پرانا وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت

مزید خبریں
بیجنگ۔12جون (اے پی پی):سائنسدانوں نے بحر ہند میں 5.3 ملین سال پرانا وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت کر لیا ہے ، جسے وہیل نیکرو پولس(whale necropolis)کا نام دیا گیا ہے۔سی جی ٹی این کے مطابق یہ دریافت جنوب مشرقی بحر ہند کے ڈائمنٹینا زون میں کی گئی، جہاں گہرائی تقریباً 7 ہزار میٹر تک ہے۔ اس مقام پر نہ صرف قدیم فوسلز موجود ہیں بلکہ فعال وہیل فال (وہ جگہیں جہاں مردہ وہیل گرتی ہیں اور ایک نیا ماحولیاتی نظام بنتا ہے) بھی پائے گئے ہیں، جو کم از کم 5.3 ملین سال سے تشکیل پا رہے ہیں۔یہ تحقیق چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیپ سی سائنس اینڈ انجینئرنگ (آئی ڈی ایس ایس ای)، اٹلی کی یونیورسٹی آف پیزا اور نیوزی لینڈ کے ارتھ سائنسز ادارے کے اشتراک سے کی گئی ہے، اور اسے معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع کیا گیا ہے۔
وہیل فال اس عمل کو کہا جاتا ہے جب مردہ وہیل سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتی ہے اور وہاں ایک عارضی لیکن انتہائی زرخیز ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہے، جس میں ہڈیوں کو کھانے والے کیڑے اور مختلف سمندری جاندار شامل ہوتے ہیں۔ اب تک ایسے زیادہ تر مقامات 4 ہزار میٹر سے کم گہرائی میں ملے تھے، جبکہ فعال نظام کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ گہرائی 4,204 میٹر تھی۔2023 میں کیے گئے ایک تحقیقاتی مشن کے دوران سائنسدانوں نے 32 بار گہرے سمندر میں ڈوب کر 1,200 کلومیٹر کے علاقے کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہیں 5 فعال وہیل فال اور 476 فوسل سائٹس ملیں، جو 4,616 سے 7,001 میٹر گہرائی تک پھیلی ہوئی تھیں۔
محققین کے مطابق اگر ان اعداد و شمار کو پورے علاقے پر لاگو کیا جائے تو اندازہ ہے کہ اس زون میں 10 ملین سے زائد وہیل باقیات موجود ہو سکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق ان میں سے ایک مقام پر 6,789 میٹر کی گہرائی میں تین چونچ والی وہیل کی ریڑھ کی ہڈی ملی، جو اب تک کا سب سے گہرا فعال وہیل فال نظام ہے۔سائنسدانوں نے بتایا کہ ان فوسلز کی عمر کم از کم 5.3 ملین سال ہے اور ان میں موجود بعض انواع آج بھی موجود ہیں جبکہ کچھ ناپید ہو چکی ہیں۔ماہرین کے مطابق ان باقیات میں موجود کاربن کی مقدار لاکھوں ٹن کے برابر ہے، جو سمندر کے ماحولیاتی نظام اور کاربن سائیکل پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔یہ تحقیق سمندری حیاتیات، ماحولیاتی ارتقا اور گہرے سمندروں کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔








