اقوام متحدہ میں ایران کے مستقبل مندوب سعید ایراوانی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے، سلامتی کونسل کو تنازعات اور عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا چاہیے،
مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے سکیورٹی کونسل تنازعات و عدم استحکام کی وجوہات حل کرے، ایرانی مندوب

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔12جون (اے پی پی):اقوام متحدہ میں ایران کے مستقبل مندوب سعید ایراوانی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے، سلامتی کونسل کو تنازعات اور عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا چاہیے، ان میں فلسطینی، لبنانی اور شامی علاقوں پر مسلسل قبضہ شامل ہے،پورے خطے میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے بار بار جارحیت کی کارروائیاں اور خطے میں امریکا کی طویل فوجی موجودگی کے ساتھ ساتھ اس کی تسلط پسندانہ پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے تصادم، عدم تحفظ اور عدم اعتماد کو ہوا دی ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی مہر کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منعقدہ ثالثی اور بات چیت کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں سیاسی حل کو آگے بڑھانے پر کھلی بحث سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب نے کہا کہ پائیدار علاقائی استحکام کا انحصار خود مختاری کے احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور علاقائی ریاستوں کے درمیان تعاون پر ہے۔
انہوں نے امریکا کی خطے میں مسلسل فوجی موجودگی اور پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور ایران کے ساتھ نمٹنے میں دھمکیوں اور جبر کے استعمال کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی یا سفارتی عمل قبضے یا جارحیت کو جائز یا جواز فراہم نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس بنیادی حقیقت کو حل کیے بغیر کوئی پائیدار حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق خطے میں پائیدار امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے قبضے کے خاتمے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، جارحیت کی کارروائیوں کے لیے جوابدہی اور انتخابی یا د ہرے معیار کے بغیر بین الاقوامی قانون کے مستقل اطلاق کی ضرورت ہے، صرف اسی بنیاد پر خطہ حقیقی امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
ایران کے خلاف امریکا کی بلاجواز جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ خلیج فارس میں غیر ملکی فوجیوں کی مسلسل موجودگی خطے میں پائیدار سلامتی نہیں لا سکتی، پائیدار امن، استحکام اور سلامتی خطے کے ممالک کے درمیان بات چیت، تعاون اور اعتماد سازی کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے جو باہمی احترام، خود مختاری برابری، اچھی ہمسائیگی ، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں کی مکمل پاسداری کی بنیاد پر بیرونی مداخلت سے پاک ہو۔ ایرانی مندوب نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے بارہا 8 اپریل کی جامع جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ، ان مسلسل خلاف ورزیوں اور مسلح حملوں کے پیش نظر ایران نے کسی بھی جارحیت کے جواب میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت تسلیم شدہ اپنے دفاع کے اپنے موروثی حق کو استعمال کیا اور کرتا رہے گا، ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی سلامتی اور اپنے عوام کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیلی حکومت بطور جارح اپنے غیر قانونی اقدامات سے پیدا ہونے والے تمام نتائج اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کسی بھی کشیدگی کی پوری ذمہ داری قبول کریں گے۔








