ریاض ۔24اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے بحیرۂ احمر اور خلیج عرب میں غیرمقامی اور جارحانہ مزاج کی حا مل آبی مخلوق کی نگرانی کے لیے ایک نیا پروگرام متعارف کرایا ہے۔العربیہ کے مطابق یہ پروگرام کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد سمندری حیات اور ماحولیاتی نظام کےکے تحفظ کے لیے مملکت کی …
بحیرۂ احمر میں غیرمقامی اور جارحانہ مزاج کی حا مل آبی مخلوق کی نگرانی کے لیے پروگرام کا آغاز

مزید خبریں
ریاض ۔24اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے بحیرۂ احمر اور خلیج عرب میں غیرمقامی اور جارحانہ مزاج کی حا مل آبی مخلوق کی نگرانی کے لیے ایک نیا پروگرام متعارف کرایا ہے۔العربیہ کے مطابق یہ پروگرام کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد سمندری حیات اور ماحولیاتی نظام کےکے تحفظ کے لیے مملکت کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
یہ پروگرام سعودی عرب میں غیر مقامی اور جارحانہ مزاج کی حا مل سمندری انواع کے بارے میں جامع ڈیٹا بیس قائم کرنے کی اولین مربوط قومی کوشش ہے۔اس میں جدید تحقیقی طریقے استعمال کیے گئے ہیں جن میں فیلڈ سرویز، ڈی این اے بار کوڈنگ اور سمندری نقل و حمل کے تجزیے شامل ہیں۔
ابتدائی نتائج میں سینکڑوں ممکنہ غیر مقامی سمندری انواع کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں بحیرۂ احمر میں 181 اور خلیج عربی میں 168 انواع شامل ہیں۔اس پروگرام نے خطے میں ممکنہ غیر مقامی سمندری انواع کی جینیاتی تفصیلات کی پہلی لائبریری قائم کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے جو مستقبل کے خطرات کی تیز اور درست شناخت کے لیے اہم پروگرام ہے۔
اس کے علاوہ اس پروگرام نے تربیت کے ذریعے قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سمندری حیات کے تحفظ کو بہتر بنایا۔ان نتائج کی بنیاد پر نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ملکی سمندری حیات کے تحفظ کا فریم ورک تیار کر رہا ہے تاکہ جارحانہ انواع کو روکنے اور ان کا انتظام کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کیا جا سکے۔
نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے چیف ایگزیکٹیو محمد قربان نے کہا کہ یہ پروگرام مملکت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سائنسی تحقیق اور اس کے استعمال کو سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے فروغ دے رہی ہے اور یہ سعودی وژن 2030 اور سعودی گرین انیشی ایٹو کے مقاصد کے مطابق ہے۔








