بدلتے ہوئے جغرافیائی و معاشی حالات میں سفارتکاری کلیدی کردار ادا کر رہی ہے،سہیل محمود

اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):ڈیولپنگ ایٹ (ڈی ۔ 8) آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن کے سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے عالمی سرمایہ کاری کے لیے متوازن اور تعمیری حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی و معاشی حالات میں سفارتکاری کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بات ترکیہ میں 17 سے 19 اپریل تک منعقدہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم 2026 کے دوران ’’بین …

اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):ڈیولپنگ ایٹ (ڈی ۔ 8) آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن کے سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے عالمی سرمایہ کاری کے لیے متوازن اور تعمیری حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی و معاشی حالات میں سفارتکاری کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے یہ بات ترکیہ میں 17 سے 19 اپریل تک منعقدہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم 2026 کے دوران ’’بین البراعظمی سرمایہ کاری‘‘ کےموضوع پر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سفیر سہیل محمود نے کہا کہ عالمی نظام تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے جہاں کثیر قطبی دنیا، بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ اور عالمگیریت کے بدلتے رجحانات سرمایہ کاری کے بہاؤ اور کاروباری حکمت عملیوں کو نئی شکل دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے جدیدجحانات زور پکڑ رہے ہیں، کیونکہ ممالک اور کمپنیاں خطرات کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور استحکام بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب کاروباری فیصلے صرف لاگت کی بنیاد پر نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی عوامل اور بدلتے جیو اکنامک منظرنامے کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ویلیو چینز اور پیداواری مراکز کی ازسرِنو ترتیب ہو رہی ہے۔ڈی-8 کے نقطۂ نظر کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاری کے ماحول میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محتاط پالیسی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پُرامن اور مستحکم عالمی ماحول بین البراعظمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے سفارتکاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنازعات کی روک تھام، مکالمے کا فروغ، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا پائیدار سرمایہ کاری کے لیے سازگار فضا پیدا کرتا ہے۔سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک داخلی تیاری اور عالمی اشتراک کے ذریعے سرمایہ کاری کو راغب کر سکتے ہیں، جس میں پالیسیوں کا تسلسل، مؤثر سہولیات، قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اور بہتر رابطہ کاری شامل ہیں۔ انہوں نے مصر کی بہتر سرمایہ کاری کارکردگی کو ڈی۔ 8 ممالک میں ایک مثبت مثال قرار دیا اور بتایا کہ تنظیم اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری پالیسی سازی کے لیے رہنما اصول مرتب کر رہی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل محمود نے کہا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے اسٹریٹجک وژن ضروری ہے، تاہم پیچیدہ عالمی حالات میں غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر قیادت کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔