سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی تعداد کے ججز پر مشتمل بعد کا بنچ پہلے کے ہم مرتبہ بنچ کے فیصلے کا پابند ہوتا ہے، کسی قانونی نکتے پر مختلف رائے کی صورت میں معاملہ چیف جسٹس کے ذریعے بڑے بنچ کو بھجوایا جائے گا
برابر تعداد کے ججز پر مشتمل بنچ سابق فیصلے سے انحراف نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی تعداد کے ججز پر مشتمل بعد کا بنچ پہلے کے ہم مرتبہ بنچ کے فیصلے کا پابند ہوتا ہے، کسی قانونی نکتے پر مختلف رائے کی صورت میں معاملہ چیف جسٹس کے ذریعے بڑے بنچ کو بھجوایا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی نظیر کے اصول کا مقصد قانون میں یقین، تسلسل اور عدالتی ادارے کی سالمیت برقرار رکھنا ہے۔جسٹس عقیل احمد عباسی کی جانب سے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے ہم مرتبہ بنچ کا سابق فیصلہ نہ صرف کم تعداد والے بنچوں بلکہ مساوی تعداد کے بنچوں کے لیے بھی قابلِ پابندی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگر بعد کا ہم مرتبہ بنچ سابق فیصلے سے اختلاف کرنا چاہے تو وہ خود متضاد فیصلہ نہیں دے سکتا بلکہ چیف جسٹس یا متعلقہ تین رکنی کمیٹی سے بڑے بنچ کی تشکیل کی درخواست کرنا ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی نظم و ضبط، قانونی یقین اور ادارہ جاتی سالمیت کے لیے عمودی اور افقی دونوں طرح کی عدالتی نظیر پر عمل ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ کی جانب سے طے کیا گیا قانونی اصول ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہے تاہم اسی عدالت کے ہم مرتبہ بنچوں کے سابق فیصلوں کی پابندی بھی عدالتی نظم کا بنیادی اصول ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی بعد کے ہم مرتبہ بنچ کو سابق فیصلے میں واضح قانونی غلطی نظر آئے یا قانونی حالات اس حد تک تبدیل ہوچکے ہوں کہ سابق نظیر میں تبدیلی ضروری ہو تو مناسب طریقہ کار کے تحت معاملہ بڑے بنچ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کمیشنر ان لینڈ ریونیو بنام میسرز ایلی للی پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے 2009ء کے فیصلے میں اختیار کیا گیا اصول درست تھا جبکہ کمشنر انکم ٹیکس پشاور بنام میسرز اسلامک انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ کے 2016ء کے فیصلے میں اس کے برعکس اختیار کیا گیا مؤقف عدالتی نظیر کے اصول سے متصادم تھا، اس لیے اسلامک انویسٹمنٹ بینک کا متضاد فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے علی لیلی کا فیصلہ بحال کردیا گیا۔فیصلے کے مطابق ایلی للی کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 1979ء کے تحت مکمل کیے گئے پرانے ٹیکس اسیسمنٹس کو اسی منسوخ شدہ قانون کے تحت ہی دیکھا جائے گاجبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی نئی دفعات جن میں سیکشن 122(5A) بھی شامل ہے، ماضی کے مکمل شدہ اسیسمنٹس پر سابقہ تاریخ سے لاگو نہیں ہوسکتیں۔دوسری جانب اسلامک انویسٹمنٹ بینک کیس میں مساوی تعداد کے بنچ نے اس کے برعکس قرار دیا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی بعض مشینی و طریقہ کار سے متعلق دفعات ماضی کے معاملات پر بھی لاگو ہوسکتی ہیں اور ٹیکس حکام کو پرانے اسیسمنٹس پر نظرثانی کا اختیار حاصل ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دونوں فیصلوں میں تضاد نے ماتحت عدالتوں اور فریقین کے لیے قانونی غیر یقینی صورتحال پیدا کی جس کا خاتمہ ضروری تھاموجودہ مقدمے میں ان لینڈ ریونیو حکام نے راولپنڈی کے ایک ٹیکس دہندہ کی جانب سے 1999ء میں تین لاکھ روپے میں خریدی گئی جائیداد کے متعلق ٹیکس کارروائی کی تھی۔ ٹیکس حکام کے مطابق متعلقہ شخص نے سرمایہ کاری کے ذرائع سے متعلق نوٹسز کا جواب نہیں دیا، جس پر یکطرفہ اسیسمنٹ کے ذریعے تین لاکھ روپے کی آمدن شامل کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا گیا۔کمشنر اپیلز نے جرمانہ ختم کردیا، جبکہ انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل اور لاہور ہائیکورٹ، راولپنڈی بینچ نے بھی محکمہ ان لینڈ ریونیو کا مؤقف تسلیم نہیں کیا۔ محکمہ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے مقدمے میں عدالتی نظیر اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی متعلقہ دفعات سے متعلق قانونی سوالات کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے ہم مرتبہ بنچ کے فیصلے سے انحراف کے لیے لازماً بڑے بنچ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔








