پنجاب کے پاس اگلی فصل آنے تک صوبے کی کھپت کی ضروریات پوری کرنے کے لئے گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ رواں سال ریکارڈ پیداوار کے باعث صوبے کو نمایاں اضافی ذخیرہ بھی حاصل ہوا ہے۔پنجاب میں رواں سال گندم کی پیداوار 22 ملین میٹرک ٹن سے زائد رہی جو صوبے کی سالانہ کھپت کی ضرورت سے تقریباً 5.5 ملین میٹرک ٹن زیادہ ہے۔
پنجاب کے پاس اگلی فصل تک ضروریات پوری کرنے کے لئے گندم کے وافر ذخائر موجود

مزید خبریں
لاہور۔10اگست (اے پی پی):پنجاب کے پاس اگلی فصل آنے تک صوبے کی کھپت کی ضروریات پوری کرنے کے لئے گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ رواں سال ریکارڈ پیداوار کے باعث صوبے کو نمایاں اضافی ذخیرہ بھی حاصل ہوا ہے۔پنجاب میں رواں سال گندم کی پیداوار 22 ملین میٹرک ٹن سے زائد رہی جو صوبے کی سالانہ کھپت کی ضرورت سے تقریباً 5.5 ملین میٹرک ٹن زیادہ ہے۔
ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل امجد حفیظ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آٹے کی بلاتعطل پیداوار اور مارکیٹ میں استحکام یقینی بنانے کی حکمت عملی کے تحت پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) سے حاصل ہونے والی گندم فلور ملوں کو فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ منظور شدہ معیار کے مطابق اہل فلور ملوں کو گندم 3,800 روپے فی 40 کلوگرام کے نرخ پر فراہم کی جا رہی ہے جبکہ تقسیم کا عمل شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر جاری ہے۔امجد حفیظ نے کہا کہ فلور ملوں کو گندم کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کا یہ اقدام آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا
۔ان کے مطابق اس اقدام سے سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں پر آٹے کی دستیابی یقینی بنانے، مارکیٹ میں قیمتوں کے لئے ایک معیار قائم کرنے اور غیر ضروری اضافے کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ صارفین کو معیاری آٹا مناسب قیمت پر مسلسل دستیاب رہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں روزانہ 10 اور 20 کلوگرام آٹے کے تقریباً ساڑھے 8لاکھ سے 9لاکھ تھیلے بالترتیب 1,100 روپے اور 2,200 روپے کے مقررہ نرخوں پر فراہم کئے جا رہے ہیں تاکہ آٹے کی مناسب دستیابی یقینی بنائی جا سکے اور صارفین کو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔گندم کی درآمد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امجد حفیظ نے کہا کہ گندم درآمد کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جو ملکی پیداوار، کھپت اور مجموعی غذائی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی ضروریات کا تعین کرتی ہے۔
فلور ملز مالکان نے سرکاری ذخائر سے گندم کے اجرا کو مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کی جانب مثبت قدم قرار دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ اس پروگرام کا دائرہ وسیع کرنے سے اس کے اثرات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے سابق مرکزی چیئرمین عاصم احمد رضا نے کہا کہ حکومت اس وقت پنجاب کی گندم کی یومیہ ضرورت کا تقریباً 30 فیصد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے اجرا کی مقدار بڑھانے سے اوپن مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں پر مزید کمی کا دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رعایتی گندم اس وقت بنیادی طور پر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں قائم فلور ملوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کو چھوٹے شہروں اور پنجاب بھر کی فلور ملوں تک توسیع دینے سے اس کے فوائد کا دائرہ وسیع ہوگا اور قیمتوں میں مزید استحکام لانے میں مدد ملے گی۔عاصم احمد رضا نے کہا کہ موجودہ گندم پالیسی میں بروقت ضروری ردوبدل سے اگلی فصل آنے تک قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو گندم کے شعبے سے متعلق پالیسیاں مرتب کرتے وقت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت جاری رکھنی چاہئے تاکہ گندم کی مستحکم فراہمی اور صارفین کے لئے مناسب قیمت پر آٹے کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔








