رطانیہ کی حکومت نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اگرچہ پرامن احتجاج اور آزادی اظہار برطانوی جمہوریت کے بنیادی ستون ہیں تاہم ان حقوق کو غیر قانونی سرگرمیوں، ہراسانی، نفرت انگیزی یا تشدد پر اکسانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔یہ یقین دہانی برطانوی ہوم آفس کے پولیس پاورز یونٹ کی جانب سے شہری اورسینئر صحافی وقار ملک کے خط کے جواب میں کرائی گئی۔
برطانوی حکومت کی سخت کارروائی کی یقین دہانی: آزادی اظہار پاکستان ، کشمیر سے متعلق مظاہروں میں اشتعال انگیزی کے لیے ڈھال نہیں ہے۔ ہوم آفس

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):برطانیہ کی حکومت نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اگرچہ پرامن احتجاج اور آزادی اظہار برطانوی جمہوریت کے بنیادی ستون ہیں تاہم ان حقوق کو غیر قانونی سرگرمیوں، ہراسانی، نفرت انگیزی یا تشدد پر اکسانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔یہ یقین دہانی برطانوی ہوم آفس کے پولیس پاورز یونٹ کی جانب سے شہری اورسینئر صحافی وقار ملک کے خط کے جواب میں کرائی گئی۔ وقار ملک نے برطانوی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو لکھے گئے اپنے خط میں برطانیہ کے مختلف شہروں، جن میں برمنگھم، مانچسٹر، شیفیلڈ اور بریڈفورڈ شامل ہیں، میں پاکستان ، آزاد کشمیر سے متعلق ہونے والے مظاہروں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اپنے مراسلے میں وقار ملک نے نشاندہی کی کہ بعض عناصر برطانوی سرزمین کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے، پاکستان کے خودمختار اداروں کے خلاف اشتعال انگیز دھمکیاں دینے اور مقامی برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق برطانیہ میں پرامن احتجاج اور آزادیٔ اظہار اہم جمہوری حقوق ہیں، تاہم یہ مطلق نہیں اور ان کی واضح قانونی حدود موجود ہیں۔ ہوم آفس نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کا حق صرف قانون کے دائرے میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور کسی کو تشدد، دھمکی یا خوف و ہراس پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے حق کو نفرت انگیزی، تشدد پر اکسانے یا کسی بھی قسم کے مجرمانہ رویے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ہوم آفس کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہروں کے خلاف پولیس کو مکمل اختیارات حاصل ہیں، جبکہ ایسے اجتماعات جن سے عوام کو ہراساں کرنے، خوف یا بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ہو، ان پر قانونی پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ہوم آفس نے اس بات پر زور دیا کہ نفرت انگیزی، دھمکی آمیز طرزِ عمل اور عوام کو ڈرانے دھمکانے سے متعلق جرائم پر قانون پوری سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت کے مطابق پرامن احتجاج کے حق اور عوامی تحفظ کے تقاضوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔اسی مقصد کے لیے برطانوی حکومت نے احتجاج اور نفرت انگیز جرائم سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے کے لیے لارڈ میکڈونلڈ کی سربراہی میں ایک جائزہ شروع کیا تھا۔ اس جائزے میں آزادی اظہار، پرامن احتجاج اور عوامی تحفظ کے درمیان متوازن حدود کا تفصیلی مطالعہ کیا جا رہا ہے۔برطانوی ہوم آفس کے مطابق جائزہ میں یہ بھی جانچا گیا ہے کہ آیا موجودہ قوانین نفرت انگیزی، دھمکی آمیز رویوں اور عوامی بے چینی کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔ہوم آفس نے تصدیق کی ہے کہ لارڈ میکڈونلڈ اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر چکے ہیں جس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کی اشاعت اور باضابطہ حکومتی ردعمل جلد سامنے آنے کا امکان ہے۔








