برطانوی فوجی افسر کو خاتون اہلکار پر جنسی حملے کے الزام میں قید کی سزا

لندن۔1نومبر (اے پی پی):برطانوی فوج کے ایک سابق سینئر افسر کو خاتون فوجی اہلکار پر جنسی حملہ ثابت ہونے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، 19 سالہ خاتون فوجی افسر جیسلی بیک نے اس واقعہ کے بعد خودکشی کر لی تھی۔اردو نیوز کے مطابق جیسلی بیک نے جولائی 2021 میں اعلیٰ افسران کو شکایت کی تھی کہ اُس وقت کے بیٹری سارجنٹ میجر مائیکل ویبر نے اُن …

لندن۔1نومبر (اے پی پی):برطانوی فوج کے ایک سابق سینئر افسر کو خاتون فوجی اہلکار پر جنسی حملہ ثابت ہونے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، 19 سالہ خاتون فوجی افسر جیسلی بیک نے اس واقعہ کے بعد خودکشی کر لی تھی۔اردو نیوز کے مطابق جیسلی بیک نے جولائی 2021 میں اعلیٰ افسران کو شکایت کی تھی کہ اُس وقت کے بیٹری سارجنٹ میجر مائیکل ویبر نے اُن پر جنسی حملہ کیا۔ شکایت کے باوجود نہ تو واقعہ کی تحقیقات کی گئیں اور نہ ہی پولیس کو اطلاع دی گئی۔

بعد ازاں مائیکل ویبر نے متاثرہ خاتون کے نام معافی نامہ لکھا تھا۔رائل آرٹلری سے وابستہ نوجوان فوجی جیسلی بیک دسمبر 2021 میں فوجی کیمپ کے اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی تھیں۔ برطانوی فوج نے رواں سال کے آغاز میں اس شکایت سے مناسب طور پر نمٹنے میں ناکامی پر معافی مانگی تھی۔

تحقیقات کے مطابق، فوج کی جانب سے خاطر خواہ کارروائی نہ ہونے نے جیسلی بیک کی موت میں "اہم کردار” ادا کیا۔ انکوائری میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ خودکشی سے قبل نوجوان فوجی کو ایک اور اعلیٰ افسر کی جانب سے بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔جنوبی انگلینڈ کی ایک فوجی عدالت میں جج ایلن لارج نے مائیکل ویبر کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ ان کا کیریئر واقعے سے متاثر نہیں ہوا اور انہیں بعد میں ترقی بھی دی گئی۔

جج کے مطابق مائیکل ویبر آدھی سزا یعنی تین ماہ قید میں گزارے گا اور اس کا نام سات سال کے لیے جنسی مجرموں کے رجسٹر میں شامل رہے گا۔سابق فوجیوں کے وزیر لوئیس سینڈر جونز نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ یہ سزا جیسلی بیک کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی، تاہم یہ انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔فوجی ترجمان نے عدالت کے فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ فوج کو اس معاملے میں ناکام رہنے پر افسوس ہے۔