"برطانوی حکومت نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور برطانیہ میں اس کی سرگرمیوں کے بارے میں عوامی تحقیقات کرانے کے امکان کو فی الحال مسترد کر دیا ہے۔”
برطانیہ نے ایپسٹین کے بارے میں عوامی تحقیقات کا امکان مسترد کر دیا
لندن ۔6اگست (اے پی پی):برطانیہ نے ایپسٹین کے بارے میں عوامی تحقیقات کا امکان فی الحال مسترد کر دیا۔العربیہ کے مطابق برطانوی ، وزارتِ انصاف نے جاری بیان میں کہاکہ حکومت سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور برطانیہ میں اس کے کاموں کے بارے میں عوامی تفتیش کرنے پر غور نہیں کر رہی ہے۔
ایپسٹین کی موت کے تقریباً سات سال بعد اس سکینڈل نے برطانوی سٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں شاہ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور امریکہ میں سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈیلسن کی گرفتاری عمل میں آئی۔سکینڈل سے متأثرہ افراد کے وزیر الیکس ڈیوس جونز نے ایک روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم اینڈی برنہم تفتیش کے معاملے کا "جائزہ لے رہے ہیں لیکن بعد ازاں وزارتِ انصاف نے اس کا امکان فی الحال مسترد کر دیا ہے۔وزارتِ انصاف کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری ہمدردیاں جیفری ایپسٹین کے متأثرین کے ساتھ ہیں جو اس تباہ کن صدمے سے بچ گئے ہیں۔








