برطانیہ کی پار لیمنٹ میں کرائم اینڈ پولیسنگ بل زیرِ غور ، منتخب نمائندوں، ججوں اور مقامی کونسلرز کے گھروں کے باہر احتجاج فوجداری جرم تصور کیا جائے گا

لندن ۔5نومبر (اے پی پی):برطانیہ کی پار لیمنٹ میں زیرِ غور ’’کرائم اینڈ پولیسنگ بل‘‘کے تحت منتخب نمائندوں، ججوں اور مقامی کونسلرز کے گھروں کے باہر احتجاج فوجداری جرم تصور کیا جائے گا،توقع ہے کہ اسےآئندہ سال شاہی منظوری حاصل ہو جائے گی۔اردو نیوز کے مطابق یہ اقدام سیاست میں ہراسانی اور دھمکیوں کے خاتمے کے لیے حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ کرائم …

لندن ۔5نومبر (اے پی پی):برطانیہ کی پار لیمنٹ میں زیرِ غور ’’کرائم اینڈ پولیسنگ بل‘‘کے تحت منتخب نمائندوں، ججوں اور مقامی کونسلرز کے گھروں کے باہر احتجاج فوجداری جرم تصور کیا جائے گا،توقع ہے کہ اسےآئندہ سال شاہی منظوری حاصل ہو جائے گی۔اردو نیوز کے مطابق یہ اقدام سیاست میں ہراسانی اور دھمکیوں کے خاتمے کے لیے حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ کرائم اینڈ پولیسنگ بل کے تحت پولیس کو ایسے مظاہروں کو روکنے کے اختیارات دیے جائیں گے جو کسی عہدیدار کے سرکاری فرائض یا نجی زندگی پر اثر انداز ہونے کی نیت سے کیے جائیں، اس جرم کے مرتکب افراد کو6ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سکیورٹی وزیر ڈین جاروس نےبیان میں کہا کہ برطانوی سیاست میں شامل افراد کو جس سطح کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ واقعی چونکا دینے والا ہے، یہ ہماری جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سیاست میں حصہ لیتے وقت اپنی یا اپنے خاندان کی سلامتی کے خوف کے بغیر حصہ لینے کے قابل ہونا چاہیے۔پارلیمانی سروے کے مطابق برطانیہ کے 96 فیصد ارکانِ پارلیمنٹ نے ہراسانی کا سامنا کیا جبکہ ایک آزاد انتخابی نگران ادارے نے بتایا کہ گزشتہ عام انتخابات میں نصف سے زیادہ امیدواروں کو دھمکیوں یا خوفزدہ کرنے کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا۔گزشتہ سال انتخابات جیتنے سے پہلے موجودہ وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے لندن کے گھر کے باہر فلسطین کے حامی مظاہرین نے بچوں کے جوتے اور ایک بینر رکھ دیا تھا جس میں ان سے اسرائیل پر اسلحے کی پابندی کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

2023 میں اُس وقت کے وزیرِاعظم رِشی سونَک کے لندن اور شمالی یارک شائر کے گھروں کے باہر بھی ماحولیاتی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔حکومت کا کہنا ہے کہ نیا بل احتجاجی حربوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کرے گا جن میں جنگی یادگاروں پر چڑھنے پر پابندی، فلیئرز یا آتش بازی کے استعمال پر پابندی اور مخصوص احتجاجی زونز میں چہرہ چھپانے کے لیے ماسک یا نقاب پہننے پر پابندی شامل ہے۔وزرا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جمہوری اداروں کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اظہارِ رائے اور احتجاج کے حق کو مزید محدود کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں