لندن۔6نومبر (اے پی پی):یورپی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر بلاک کی تیز ترین ریلوے لائن کا منصوبہ تکمیل کو پہنچا تو جرمنی کے شہر برلن سے ڈنمارک کے کوپن ہیگن تک کا سفر 7 کے بجائے صرف 4 گھنٹے کا رہ جائے گا،یعنی ناشتہ برلن ،دوپہر کا کھانا کوپن ہیگن یا صوفیہ جبکہ شام کا مشروب ایتھنز میں پیا جاسکتا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یورپی یونین …
بلاک کی تیز ترین ریلوے لائن کا منصوبہ ، جرمنی کے شہر برلن سے ڈنمارک کے کوپن ہیگن تک کا سفر 7 کے بجائے صرف 4 گھنٹے کا رہ جائے گا،یورپی ماہرین

مزید خبریں
لندن۔6نومبر (اے پی پی):یورپی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر بلاک کی تیز ترین ریلوے لائن کا منصوبہ تکمیل کو پہنچا تو جرمنی کے شہر برلن سے ڈنمارک کے کوپن ہیگن تک کا سفر 7 کے بجائے صرف 4 گھنٹے کا رہ جائے گا،یعنی ناشتہ برلن ،دوپہر کا کھانا کوپن ہیگن یا صوفیہ جبکہ شام کا مشروب ایتھنز میں پیا جاسکتا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یورپی یونین کے ایگزیکٹو ادارے نے بدھ کو کہا کہ سنہ 2040 تک ایک تیز تر اور ’حقیقی یورپپ‘ ہائی سپیڈ ریل نیٹ ورک ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
یورپی کمیشن نے بڑے شہروں کے درمیان سفری اوقات میں نمایاں کمی کے منصوبے پیش کیے ہیں۔کمیشن کے مطابق مستقبل میں ریل گاڑیاں 250 کلومیٹر فی گھنٹہ (155 میل فی گھنٹہ) سے کہیں زیادہ رفتار سے چل سکیں گی تاکہ براعظم بھر میں تیز تر روابط ممکن ہوں۔
اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا تو 2030 تک جرمنی کے شہر برلن سے ڈنمارک کے کوپن ہیگن کا سفر موجودہ سات گھنٹوں کے بجائے صرف چار گھنٹے میں طے ہو سکے گا۔ اسی طرح 2035 تک صوفیہ سے ایتھنز کا سفر تقریباً 14 کے بجائے صرف چھ گھنٹے ،ٹالِن اور ریگا کے درمیان سفر چھ گھنٹے 10 منٹ سے کم ہو کر صرف ایک گھنٹہ 45 منٹ جبکہ مغربی یورپ میں لزبن سے میڈرڈ کا فاصلہ نو گھنٹوں سے کم ہو کر تین گھنٹے تک محدود ہو جائے گا۔یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ کمشنر، اپوسٹولوس تزیتزیکوستاس، جو خود کو ’ٹرین گائے‘ کہتے ہیں، کے مطابق یہ منصوبہ 2040 تک ایک تیز رفتار حقیقی یورپی ہائی سپیڈ ریل نیٹ ورک قائم کرنے کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ریل کا سفر چھوٹے اور درمیانے فضائی سفر کا متبادل بن سکتا ہے،تاہم متعدد کوششوں کے باوجود سرحد پار تیز رفتار ریل سفر اب بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمیشن کے مطابق یورپ کا موجودہ 12 ہزار 128 کلومیٹر طویل ہائی سپیڈ نیٹ ورک زیادہ تر چار مغربی ممالک، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سپین میں مرکوز ہے جبکہ مشرقی اور وسطی یورپ اب بھی کمزور طور پر منسلک ہے ۔ ماہرین کے مطابق نیٹ ورک کا حجم تین گنا بڑھانے اور ٹرینوں کو 250 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پر چلانے کے لیے 546 ارب یورو کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔








