بلند پایہ شاعر، ادیب ،ممتاز صحافی رئیس امروہوی کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی
بلند پایہ شاعر، ادیب ،ممتاز صحافی رئیس امروہوی کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):بلند پایہ شاعر، ادیب اور ممتاز صحافی سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی کی سالگرہ ہفتہ 12 ستمبر کو منائی گئی۔ وہ 12 ستمبر 1914کو امروہہ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔1936 میں صحافت سے وابستہ ہوئے اور ابتدا میں امروہہ کے اخبارات قرطاس اور مخبر عالم کی ادارت کی۔ بعد ازاں روزنامہ جدت (مرادآباد) کے مدیر اعلیٰ رہے۔ رئیس امروہی ،سید محمد تقی اور جون ایلیا کے بڑے بھائی تھے۔
تقسیم ہند کے بعد 19 اکتوبر 1947 کو ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گئے اور روزنامہ جنگ سے منسلک ہوئے ۔ان کی ادارت میں جنگ پاکستان کاسب سے کثیرالاشاعت روزنامہ بن گیا۔ صحافتی کالم کے علاوہ رئیس امروہی کے قصائد، نوحے اور مثنویاں اردو ادب کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ نثر میں انہوں نے نفسیات و فلسفۂ روحانیت کو موضوع بنایا۔
ان کی نمایاں شعری تصانیف میں مثنوی لالہ صحرا،پس غبار،قطعات (حصہ اول و دوم)،حکایت،بحضرت یزداں،انا من الحسین،ملبوس لباس بہار،آثار جبکہ نثری تصانیف میں نفسیات و مابعد النفسیات ( 3 جلدیں)،عجائب نفس ( 4 جلدیں)،لے سانس بھی آہستہ ( 2 جلدیں)،جنسیات ( 2 جلدیں)،عالم برزخ ( 2 جلدیں)،حاضرات ارواح اور اچھے مرزا شامل ہیں۔ رئیس امروہوی کی ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سمیت مختلف قومی و بین الاقوقامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ اردو ادب کا روشن ستارہ اور صحافی 22 ستمبر 1988 کو اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے انہیں بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔







