اردو کی پہلی خاتون نقاد، تانیثیت کی علم بردار، افسانہ نگار، مترجم اور ادبی مجلہ نیا دور کی مدیر ممتاز شیریں کی سالگرہ منائی گئی
اردو کی پہلی خاتون نقاد، تانیثیت کی علم بردار، افسانہ نگار، مترجم اور ادبی مجلہ نیا دور کی مدیر ممتاز شیریں کی سالگرہ منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):اردو کی پہلی خاتون نقاد، تانیثیت کی علم بردار، افسانہ نگار، مترجم اور ادبی مجلہ نیا دور کی مدیر ممتاز شیریں کی سالگرہ ہفتہ 12 ستمبر کو منائی گئی۔ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924 کوہندو پور، آندھرا پردپردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا۔ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا۔ ممتاز شیریں نے 13 سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ انہوں نے 1941 میں مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔
ممتاز شیریں نے 1944میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے "نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔ اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ ان کی سنجیدگی، فہم و فراست، تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ۔ قیام پاکستان کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور مجلہ بند ہو گیا ۔ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
پاکستان آنے کے بعد ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا اور انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ جامعہ کراچی سے ایم اے ( انگریزی) کرنے کے بعد ممتاز شیریں برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کرنا چاہتی تھیں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ ممتاز شیریں نے 1942میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔
ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944 میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پزیرائی ملی۔اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ اظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ ممتاز شیریں کو انگریزی، اردو، عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی۔ عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گذشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی۔ ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کر دیا۔
زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔1954میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے۔ ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔
رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی تصانیف نے انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے حوالہ سے بلند مقام پر فائز کیا۔ ان کی تصانیف میں افسانوی مجموعے،اپنی نگریا،حدیث دیگراں،میگھ ملہار،ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی،تنقید،معیار،منٹو، نوری نہ ناری اور تراجم میں درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)،پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ) شامل ہیں ۔
ان پر متعدد کتب بھی تحریر کی گئیں جن میں ممتاز شیریں – ناقد، کہانی کار اور ممتاز شیریں: شخصیت و فن شامل ہیں۔ ممتاز شیریں نے وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت ممشیربھی خدمات سرانجام دیں ۔ممتاز شیریں 11 مارچ 1973کو اسلام آباد میں انتقال کر گئیں۔ ان کیکی ادبی اور صھافتی خدمات کے اعتراف میں انہین مکتلف اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ممتاز شیریں کی سالگرہ کے موقع پر علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔







