بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارروائی،مضر صحت دودھ اور ملاوٹ پر 2 یونٹس سیل، 18 مراکز کو جرمانہ جبکہ 2 ہزار لیٹر دودھ تلف

بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے مضرصحت اور ملاوٹ کرنے والے دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 2 یونٹس سیل، 18 مراکز کو جرمانہ جبکہ 2 ہزار لیٹر دودھ تلف کردیا ہے۔ مہم کے تحت کوئٹہ اور لورالائی میں دودھ فروشوں، دکانوں، دودھ بردار گاڑیوں، ملک سپلائرز اور دیگر مشتبہ مقامات کی بڑے پیمانے پر چیکنگ اور دودھ کے معیار کی جانچ کی گئی۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپکشن ٹیموں نے خصوصی …

کوئٹہ۔ 16 ستمبر (اے پی پی):بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے مضرصحت اور ملاوٹ کرنے والے دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 2 یونٹس سیل، 18 مراکز کو جرمانہ جبکہ 2 ہزار لیٹر دودھ تلف کردیا ہے۔ مہم کے تحت کوئٹہ اور لورالائی میں دودھ فروشوں، دکانوں، دودھ بردار گاڑیوں، ملک سپلائرز اور دیگر مشتبہ مقامات کی بڑے پیمانے پر چیکنگ اور دودھ کے معیار کی جانچ کی گئی۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپکشن ٹیموں نے خصوصی مہم کے پہلے روز کوئٹہ اور لورالائی میں کارروائیاں کرتے ہوئے 2 یونٹس سیل جبکہ 18 مراکز اور ملک سپلائرز کو جرمانے کیے۔

کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 59 دودھ بردار گاڑیوں و موٹر سائیکلوں سمیت 7 دودھ کی دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 19,221 لیٹر دودھ جبکہ بڑی مقدار میں دہی کے معیار کی جانچ کی گئی۔ ملاوٹ، ناقص معیار اور انسانی صحت کے لیے مضر پائے جانے والے تقریبا 2,000 لیٹر دودھ اور بڑی مقدار میں دہی کو موقع پر تلف کردیا گیا۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی موبائل لیبارٹری کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی موقع پر جانچ کی گئی جس میں دودھ میں پانی اور اسکمڈ ملک کی ملاوٹ کی نشاندہی کی گئی۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر موقع پر ہی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مشتبہ دودھ کے ڈبے بھی ضبط کیے گئے۔

انسپکشن ٹیموں نے دودھ فروشوں اور ملک سپلائرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات، غیر مناسب اسٹوریج، آلودہ برتنوں، صفائی کی ابتر صورتحال اور بغیر لائسنس کاروبار سمیت مختلف خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لیا۔خصوصی ملک ٹیسٹنگ مہم سے متعلق ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈکوارٹر فخرالدین مری کا کہنا ہے کہ دودھ بنیادی اور روزمرہ استعمال کی اہم غذا ہے اس لیے دودھ کے معیار اور خالص پن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل لیبارٹری کے ذریعے موقع پر دودھ کی جانچ کا عمل مزید موثر بنایا گیا ہے تاکہ ملاوٹ کی فوری نشاندہی کرکے عوام کو غیر معیاری دودھ کی فراہمی روکی جاسکے۔

فخرالدین مری نے کہا کہ دودھ میں پانی، اسکمڈ ملک یا دیگر غیر مجاز اجزا کی ملاوٹ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے دودھ فروشوں کو مقررہ فوڈ سیفٹی قوانین اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، سیلنگ اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈائریکٹر آپریشنز نے مزید کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں دودھ کے معیار کی نگرانی کے لیے مختلف علاقوں میں باقاعدگی سے چیکنگ جاری رکھیں گی۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ملاوٹی ، مشتبہ یا غیر معیاری دودھ کی فروخت کی اطلاع بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔