سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار ملک نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کمی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے عام آدمی کو براہ راست ریلیف ملے گا جبکہ ٹرانسپورٹ، کاروبار اور معیشت کے مختلف شعبوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ …
سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کا پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کے اقدام کا خیرمقدم
لاہور۔16ستمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار ملک نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کمی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے عام آدمی کو براہ راست ریلیف ملے گا جبکہ ٹرانسپورٹ، کاروبار اور معیشت کے مختلف شعبوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں ایک 100 فی لیٹر کمی ایک غیر معمولی اقدام ہے جس سے بالخصوص موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو خاطر خواہ مالی سہولت حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی سے روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کے سفری اخراجات کم ہوں گے اور محدود آمدنی رکھنے والے طبقات کو اپنے گھریلو بجٹ میں کچھ گنجائش پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔افتخار ملک نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں کمی کا فائدہ صرف ذاتی گاڑی استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل، مسافر ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار اور دیگر معاشی سرگرمیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کاروباری لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان میں کمی سے مجموعی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد روزگار، کاروبار، تعلیم اور دیگر ضروریات کے لیے روزانہ سفر کرتی ہے، اس لیے پٹرول کی قیمت میں کمی ان کے لیے براہ راست مالی ریلیف کا باعث بنے گی۔
اسی طرح چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے ماہانہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔سارک چیمبر کے سابق صدر نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی سے عوام کی قوت خرید بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے کیونکہ سفر اور نقل و حمل پر کم خرچ ہونے سے شہری اپنی آمدنی کا کچھ حصہ دیگر ضروریات پر خرچ کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری بھی ایسے اقدامات کو اہم سمجھتی ہے جو پیداواری اور کاروباری لاگت کم کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں صنعت، تجارت اور عام صارف کے لیے توانائی اور ایندھن کی لاگت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری، مارکیٹ میں طلب بڑھنے اور مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اس کے ثمرات مارکیٹ کی سطح پر بھی منتقل ہوں اور اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات کی قیمتوں میں مناسب کمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد اس کے مثبت اثرات عام صارف تک پہنچانے کے لیے موثر نگرانی کا نظام مزید فعال بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت، کاروباری برادری اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ملک میں معاشی استحکام اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی جیسے اقدامات سے نہ صرف عوام کو فوری ریلیف ملتا ہے بلکہ کاروباری اعتماد میں بھی بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔
افتخار ملک نے کہا کہ حکومت کو عوامی ریلیف کے ساتھ ساتھ صنعتی و تجارتی شعبے کے لیے بھی مزید سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں تاکہ پیداواری لاگت میں کمی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے مثبت اثرات معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچیں گے اور عام شہری کے لیے مہنگائی کے دبائو میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کے فیصلے کو عوامی ریلیف کی جانب اہم قدم قرار دیا۔








