قومی اسمبلی میں ارکان نے قائدحزب اختلاف کے متنازعہ بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی قومیتیں آپس میں بھائی چارے کے رشتے میں بندھی ہیں،ان کو لڑانے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پرنوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں،ہمیں اپنے جوانوں کو مضبوط اور مستحکم پاکستان دینا ہے،ایوان سے یہ پیغام دینا ہے …
بلوچستان میں بسنے والی قومیتیں آپس میں بھائی چارے کے رشتے میں بندھی ہیں،ان کو لڑانے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی، ارکان قومی اسمبلی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں ارکان نے قائدحزب اختلاف کے متنازعہ بیانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی قومیتیں آپس میں بھائی چارے کے رشتے میں بندھی ہیں،ان کو لڑانے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پرنوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں،ہمیں اپنے جوانوں کو مضبوط اور مستحکم پاکستان دینا ہے،ایوان سے یہ پیغام دینا ہے کہ اگر کوئی ریاست کو کمزور کرے گا وہ اس میں ناکام ہوگا۔سپیکر نے کہا کہ یہ تشویشناک صورتحال ہے،پاکستان کا کوئی محب وطن شہری ایسی بات نہیں کرسکتا،یہ باتیں افسوسناک اور شرمناک ہیں، ایسی باتیں کرنے والے اگر افغانستان کی شہریت لینا چاہتے ہیں تو لیں۔ میاں خان بگٹی نے کہا کہ پشتونوں اور بلوچوں کو لڑانے کی بات کرنا قابل مذمت ہے، بلوچستان کے لوگ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، بلوچستان محب وطن ہیں، قائد حزب اختلاف کا بیان دونوں قومیتوں کو لڑانے کی کوشش تھی، سیاسی لوگوں کو ایسی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے، ہمیں بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوشش کرنی چاہئیں ۔ پلین بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے،وہاں حالات کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی بنائی جائے، وہاں صورتحال ٹھیک نہیں ۔جمال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کو سنجیدہ لیاجائے،بلوچ پشتون بھائی بھائی ہیں،ان کو لڑانے کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
گل اصغر خان نے کہا کہ بلوچستان جلسے میں قائد حزب اختلاف نے افغان سرحد کے ساتھ لگی باڑ اکھاڑنے،پاکستانی عدالتوں کو نہ ماننے،بندوق اٹھانے کی باتیں کیں جو افسوسناک ہیں،یہ 26 کروڑ پاکستانیوں کو ملک ہے، یہ چند لوگوں کا پاکستان نہیں ، پاکستان اور پاکستانیت کے خلاف بات کرنے والا محب وطن نہیں ہوسکتا، پاکستان ہم سب کا ہے،کسی ملک میں کھڑے ہوکر ایسی بات کرکے دیکھیں کہ ہم اس ملک کو نہیں مانتے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے لئے لوگ جان ومال کی قربانی دے رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر کا پاکستان اور پاکستانیت کے خلاف بیان قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پسماندگی پر افسوس ہے تاہم اس کو مل کر دور کریں گے۔ن لیگ کی رکن کرن حیدر نے کہا کہ میں بلوچ ہوں، پاکستانی ہوں،پاکستان میرا ملک ہے،ہم پاکستان کے لئے جان دینے سے گریز نہیں کریں گے، بلوچ اور پٹھان ایک مٹی کے رشتے سے جڑے ہیں، ان کے درمیان کوئی تفرقہ نہیں۔بلوچستان سے رکن خان محمد جمالی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں اور قائد حزب اختلاف کا بیان اس پر جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے ،تاہم بلوچستان کے عوام نے یہ سازش سمجھی اور اسے مسترد کر دیا، بلوچ اور پٹھان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس قسم کی سازشیں مسترد کر دیں گے۔اسد نیازی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے،قائد حزب اختلاف کے بارے میں ماضی میں اسے غدار کہنے والوں نے انہیں اب اپنا لیڈر بنالیا ہے، ہم ایک تھے اور ایک رہیں گے۔








