مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں مالی خسارہ نمایاں طور پر کم جبکہ ریونیو اور مالی نظم و ضبط میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے جمعرات کو جاری قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ کے دوران مالی خسارہ نمایاں طور پر کم ہو کر 856.4 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک آ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی …
مالی خسارہ نمایاں طور پر کم جبکہ ریونیو اور مالی نظم و ضبط میں بہتری ریکارڈ کی گئی، اقتصادی سروے

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں مالی خسارہ نمایاں طور پر کم جبکہ ریونیو اور مالی نظم و ضبط میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے جمعرات کو جاری قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ کے دوران مالی خسارہ نمایاں طور پر کم ہو کر 856.4 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک آ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 2,970.0 ارب روپے یا 2.6 فیصد تھا۔ابتدائی سرپلس بڑھ کر 4,091.5 ارب روپے (جی ڈی پی کا 3.2 فیصد) تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال 3,468.7 ارب روپے (3.0 فیصد) تھا۔کل اخراجات میں 4.2 فیصد کمی ہوئی اور یہ 15,655.6 ارب روپے رہے۔ جاری اخراجات 2.2 فیصد کمی کے ساتھ 14,267.4 ارب روپے تک آ گئے جبکہ مارک اپ ادائیگیاں 23.2 فیصد کمی کے بعد 4,947.9 ارب روپے رہیں جس کی بڑی وجہ شرح سود میں کمی اور بہتر قرض مینجمنٹ قرار دی گئی ہے۔
ترقیاتی اخراجات اور نیٹ لینڈنگ 18.7 فیصد اضافے کے ساتھ 1,831.8 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ پی ایس ڈی پی اخراجات 26.8 فیصد بڑھ کر 1,947.1 ارب روپے رہے جو ترقیاتی ترجیحات کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔کل آمدن میں 10.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 14,799.3 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ٹیکس آمدن 11.3 فیصد بڑھ کر 10,166.6 ارب روپے رہی جبکہ نان ٹیکس آمدن 9.5 فیصد اضافے سے 4,632.7 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 10.1 فیصد اضافے کے ساتھ 9,305.9 ارب روپے رہی جبکہ صوبائی ٹیکس آمدن 25.8 فیصد بڑھ کر 860.7 ارب روپے تک پہنچ گئی۔مجموعی طور پر اقتصادی سروے کے مطابق مالی کارکردگی مثبت رہی جس کی بنیاد اخراجاتی نظم و ضبط، بہتر ریونیو اکٹھا کرنے، صوبائی سرپلسز اور جاری مالی اصلاحات پر ہے جو پائیدار مالی استحکام اور جامع ترقی کے لیے مالی گنجائش بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔








