اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،صوبے میں متعدد ترقیاتی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔پیر کو سینیٹر دنیش کمار کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں بجلی کی فراہمی اوربڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے …
بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،صوبے میں متعدد ترقیاتی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،صوبے میں متعدد ترقیاتی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔پیر کو سینیٹر دنیش کمار کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں بجلی کی فراہمی اوربڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سمیت مختلف ترقیاتی اقدامات پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاری اور آئندہ منصوبوں کی تفصیلی فہرست ایوان کو کسی بھی وقت فراہم کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم کا حالیہ دورہ بلوچستان ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کے لئے تھا جس میں گورنر، اراکینِ پارلیمان اور صوبائی ٹیم بھی شریک تھی۔خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے حوالے سے ’’دوہری اور متضاد پالیسی‘‘ واضح طور پر نظر آتی ہے، ایک طرف صوبائی قیادت دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب عسکری کارروائیوں کی مخالفت کر کے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کئے گئے جن میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ہونے والی کارروائیاں اور اس سے قبل سوات میں کئے گئے اقدامات شامل ہیں جن سے امن و استحکام بحال ہوا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گرد شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کو نشانہ بنا رہے ہیں جو روزانہ ملک کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شواہد سے بارہا ثابت ہوا ہے کہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں افغان سرحد پار سے کی جا رہی ہیں جن میں ضلعی عدالتوں کے باہر خودکش حملوں جیسے واقعات شامل ہیں۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان نے استنبول اور دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے نیک نیتی سے بات چیت کی تاہم افغان فریق تحریری معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرتا رہا اور سرحد پار دراندازی روکنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کے عزائم سے متعلق شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے تمام پرامن راستے اختیار کئے تاہم اب شہداء کے اہلِخانہ، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا ہو گا جنہوں نے ملک کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔








