بلوچستان کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقیاتی عمل اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق 28واں دفاعی و جائزہ اجلاس

بلوچستان کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقیاتی عمل اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق 28واں دفاعی و جائزہ اجلاس

کوئٹہ۔ 27 اگست (اے پی پی):بلوچستان کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقیاتی عمل اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق 28واں دفاعی و جائزہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر کوئٹہ نے کی اجلاس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و استحکام، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، عوامی فلاح و بہبود اور مختلف وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان کے درخشاں مستقبل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی وفاقی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ کوششوں کو مزید موثر بنانے، باہمی رابطہ اور تعاون کو بہتر بنانے سمیت صوبے کے وسیع تر مفاد میں مزید اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے اہم علاقوں میں مرحلہ وار سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔

شرکا نے اس منصوبے کو شہریوں کے تحفظ، نگرانی کے نظام میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔ 28ویں دفاعی و جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں امن و استحکام کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں وزیر اعلی نے کہا کہ ہر تین ہفتوں بعد منعقد ہونے والے دفاعی و جائزہ اجلاس کا بنیادی مقصد سابقہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا، درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدگی سے ہونے والے اجلاسوں سے اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوا ہے اور امن و استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں تسلسل پیدا ہوا ہے ۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور عوامی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ حکومت صوبے میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے روشن اور درخشاں مستقبل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کرنا ہوگا ۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، مختلف محکموں اور سیکیورٹی فورسز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

شرکانے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، جاری اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ اجلاس کے دوران رواں ماہ فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ شرکا نے دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے عزم اور موثر کارروائیوں کو سراہتے ہوئے امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون کا سلسلہ مزید مضبوط بنایا جائے گا ۔ اجلاس کے شرکانے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و استحکام کے فروغ، ترقیاتی عمل میں تیزی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔