اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کاروباری برادری، مخیر حضرات اور اوورسیز پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم اور ہنرمندی کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے آگے بڑھیں، کیونکہ بلوچستان کے نوجوانوں پر سرمایہ کاری درحقیقت پاکستان کے مضبوط، خوشحال اور روشن مستقبل پر سرمایہ کاری …
بلوچستان کے نوجوان پاکستان کا فخر اور بڑا اثاثہ ہیں ، صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کاروباری برادری، مخیر حضرات اور اوورسیز پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم اور ہنرمندی کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے آگے بڑھیں، کیونکہ بلوچستان کے نوجوانوں پر سرمایہ کاری درحقیقت پاکستان کے مضبوط، خوشحال اور روشن مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے یہ بات آئی سی سی آئی کے زیر اہتمام الہجرہ اسکولز ٹرسٹ اور ون ون مارکیٹنگ کے اشتراک سے منعقدہ پروگرام ’’انسانیت، اسلامیت اور پاکستانیت — تعلیم اور بلوچستان کے بہتر مستقبل کے لیے متحد اجتماع‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور جب بھی اس صوبے کی ترقی اور خوشحالی کی بات ہو تو معاشرے کو اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے ’’دو قدم آگے‘‘ بڑھ کر یہ زمہ داری نبھانی چاہیے۔ انہوں نے الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کو اس امر کی روشن مثال قرار دیا کہ اخلاص، تعلیم اور انسان دوستی کے ذریعے محروم بچوں کو بااعتماد، باکردار اور معاشرے کے مفید شہری بنایا جا سکتا ہے۔آئی سی سی آئی صدر نے الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کے بانی عبد الکریم ثاقب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ستارۂ امتیاز بلاشبہ ایک بڑا اعزاز ہے، تاہم ان کی اصل کامیابی وہ ’’روشن ستاروں کی کہکشاں‘‘ ہے جو انہوں نے برسوں کی محنت، تعلیم اور کردار سازی کے ذریعے تیار کی۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے بچوں کو تعلیم، تربیت اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کے بانی عبد الکریم ثاقب نے ٹرسٹ کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کا آغاز 1988ء میں برمنگھم، برطانیہ سے ہوا، جہاں بیرون ملک مقیم مسلم بچوں کو اسلامی اقدار اور جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ایک ایسے تعلیمی ماحول کی ضرورت محسوس کی گئی جو انسانیت، اسلامیت اور پاکستانیت کے اصولوں پر قائم ہو۔ انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں اسی وژن کو پاکستان منتقل کیا گیا اور 2001ء میں حکومت بلوچستان کے ساتھ معاہدے کے تحت صوبے میں الہجرہ کا تعلیمی منصوبہ شروع کیا گیا۔عبد الکریم ثاقب نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران الہجرہ نے ہزاروں ایسے بچوں کو مفت تعلیم اور تربیت فراہم کی جن کے لیے معیاری تعلیمی مواقع تک رسائی محدود تھی۔
الہجرہ کے متعدد طلبہ نے بلوچستان سمیت وفاقی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور اپنے خاندانوں کے ساتھ ساتھ اپنی برادریوں کی ترقی میں بھی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کاروباری برادری اور مخیر حضرات پر زور دیا کہ ایسے اداروں کی معاونت کو محض خیرات نہیں بلکہ انسانی سرمائے اور پاکستان کے مستقبل میں ایک اہم سرمایہ کاری سمجھا جائے۔الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر یاسر مسعود آفاق اور پاکستان چیپٹر کے فوکل پرسن ڈاکٹر انیس جہانگیر خان نے بھی بلوچستان میں ٹرسٹ کی طویل خدمات، خصوصاً غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے اس کے تعلیمی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ الہجرہ کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ادارے اپنے مشن کے ساتھ مستقل مزاجی سے وابستہ رہیں تو دیرپا اور بامعنی تعلیمی تبدیلی ممکن ہے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ تقریباً 25 کروڑ آبادی پر مشتمل پاکستان سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ ترکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بڑی صارف مارکیٹ، باصلاحیت افرادی قوت، ٹیرف مراعات اور نسبتاً کم آپریٹنگ لاگت کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ آئی سی سی آئی صدر نے الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کے لیے چیمبر کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی آئی ٹرسٹ کی قیادت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اس نیک مشن کو مزید وسیع سطح تک لے جانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے الہجرہ اسکولز ٹرسٹ کے لیے 10 لاکھ روپے کی معاونت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط بلوچستان، مضبوط تجارت اور مضبوط پاکستان ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری اور عزم ہونا چاہیے۔ تقریب میں آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب، سابق صدر محمد اعجاز عباسی، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری اور ذوالقرنین عباسی، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، آئی سی سی آئی کے اراکین سردار شاہد عظیم، نواز بسرا، بابر بھٹی اور دیگر بھی موجود تھے۔








