کوئٹہ۔ 01 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مثبت تبدیلی کا عمل تیزی سے جاری ہے، بلوچستان کے ہر بچے، بچی اور ماں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت اپنا وقت ضائع نہیں کرے گی بلکہ عوام کو عملی طور پر بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ان خیالات کا …
بلوچستان کے ہر بچے کو صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، سرفراز بگٹی کا تقریب سے خطاب

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 01 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مثبت تبدیلی کا عمل تیزی سے جاری ہے، بلوچستان کے ہر بچے، بچی اور ماں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت اپنا وقت ضائع نہیں کرے گی بلکہ عوام کو عملی طور پر بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان میں ای پی ایچ ایس کے نفاذ کے افتتاحی تقریب سے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ بلیدی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین، سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے محکمہ صحت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت نے حکومت کی جانب سے دئیے گئے مختلف اہداف کو محنت اور عزم کے ساتھ مکمل کیا ہے، جس کے مثبت نتائج عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ تمام شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور کمیٹمنٹس کو عملی جامہ پہنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیاں ایک نئے اور مختلف بلوچستان کی عکاسی کررہی ہیں۔ آج مائیں، بچیاں اور بچے بنیادی صحت کی سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں، جبکہ صوبے کے 164 بنیادی مراکز صحت کو فعال کیا جا چکا ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن کے مثبت اثرات براہ راست عام آدمی کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ ان اقدامات پر اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، کیونکہ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے ڈیرہ بگٹی کے ایک دور افتادہ علاقے میں ڈاکٹر عبدالباری کی جانب سے ہسپتال فعال کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہسپتال کی فعالیت کے بعد پیدا ہونے والے پہلے بچے کا نام بخت محمد رکھا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ بنیادی صحت کی سہولت کس طرح ایک پورے علاقے کے لیے امید کا باعث بنتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "اسکائی از دی لمٹ”، اگر نیت، عزم اور محنت موجود ہو تو بلوچستان میں بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے اور موجودہ حکومت صوبے کے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔امن و امان سے متعلق اپنے مؤقف پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے مؤقف پر تنقید کی جاتی ہے تاہم وہ اس کی پروا نہیں کرتے۔
حکومت کا مقصد عوام کی خدمت اور بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، اس لیے حکومت غیر ضروری بحث میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہر بچے کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بھی بنیادی سہولیات پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہری اور دیہی علاقوں کے عوام کے درمیان سہولیات کا فرق کم کیا جا سکے۔
میر سرفراز بگٹی نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے اور فعال کیے جانے والے مراکز صحت میں ڈاکٹرز، طبی عملے، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اپنا کام کررہا ہے اور حکومت بلوچستان صوبے میں مثبت تبدیلی کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔ مثبت تبدیلی کے سفر میں حکومت کو ہمیشہ فرنٹ لائن پر پایا جائے گا اور عوامی فلاح کے اقدامات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔






