وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے علما کی ملاقات، انتہا پسندی کے خاتمے اور بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے علما کی ملاقات، انتہا پسندی کے خاتمے اور بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق

گلگت۔ 01 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے جید علماء و مشائخ کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی، جس میں خطے میں امن و امان کے قیام، بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔​وفد میں جامعہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم، جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم، علامہ ضیاء اللہ شاہ، مولانا زاہد منصور اور علامہ عارف حسین واحدی سمیت دیگر علما کرام شامل تھے۔​ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ مشکل حالات میں علما کرام نے ہمیشہ حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ہماری پہچان، امید اور مشترکہ مستقبل ہے اور ہماری اصل طاقت وسائل میں نہیں بلکہ قومی یکجہتی میں ہے۔

ہماری زبانیں اور ثقافتیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن ہمارا پرچم ایک ہے۔ ​وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن کا اصل مطلب دلوں سے نفرت کا خاتمہ اور ایک دوسرے کی شناخت کا احترام ہے۔ مختلف مسالک اور مذاہب ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہیں، اور گلگت بلتستان بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے علما کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ علما کے خطابات کا اثر حکومتی قوانین سے بھی زیادہ ہوتا ہے؛ ان کا ایک جملہ امن بحال کر سکتا ہے اور خاندانوں کو قریب لا سکتا ہے۔​

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ان کا مستقبل نفرت میں نہیں بلکہ علم میں ہے۔ ہم اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن نفرت نہیں، تنقید کر سکتے ہیں لیکن تقسیم نہیں۔ حکومت قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مشن میں مکمل تعاون کرے گی کیونکہ امن قائم ہوگا تو خطہ ترقی کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔​اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالرحیم نے تجویز دی کہ صوبائی حکومت صوبائی امن کمیٹی کی سرپرستی کرے اور اس کے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ فتنہ پھیلانے والے عناصر کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے علما اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اگر مل کر مشترکہ کوششیں کی جائیں تو گلگت بلتستان سیاحت کا بہترین گہوارہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست کے ساتھ وفاداری اور حکومت کی عوام کے لیے خدمت دونوں غیر مشروط ہونی چاہئیں۔