بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے ۔جمعہ کو بلیو اکانومی پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ اور کراچی پورٹ کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کے فروغ کے لیے ترقی دی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کو …

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے ۔جمعہ کو بلیو اکانومی پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ اور کراچی پورٹ کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کے فروغ کے لیے ترقی دی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کو علاقائی تجارت کا موثر گیٹ وے بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلیو اکانومی کو صرف ماہی گیری تک محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ فش پروسیسنگ، برانڈنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے مارکیٹنگ پر بھی بھرپور توجہ دینا ناگزیر ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک نے سمندری وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے بلیو اکانومی کو اپنی معاشی ترقی کا مضبوط ستون بنایا ہے جبکہ پاکستان میں خصوصاً بلوچستان کے سمندری علاقے قومی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے میری ٹائم شعبے کے منصوبوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور پالیسی فریم ورک تیار کر لیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ گوادر کو ایک طویل المدتی معاشی پلیٹ فارم کے طور پر ترقی دی جا رہا ہے جہاں فشریز اور ایکوا کلچر میں ویلیو ایڈیشن سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ مزید برآں سیاحت کے شعبے میں بھی بلیو اکانومی کے امکانات سے فائدہ اٹھانے پر کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں بلیو اکانومی کا حصہ محض ایک فیصد ہے جسے بڑھانے کے لیے تمام میری ٹائم منصوبوں پر مربوط، جامع اور حل مرکوز حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کے وژن اڑان پاکستان کے تحت بلیو اکانومی کو ملک کی معاشی ترقی کا سٹریٹجک ستون بنایا گیا ہے تاکہ پاکستان سمندری وسائل سے بھرپور معاشی فائدہ حاصل کر سکے۔

مزید خبریں