اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ بنگلہ دیش، ویتنام اور سری لنکا جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کی ترقی کا بڑا سبب سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ہے،کسی بھی قوم کی کامیابی کے لئے چار اہم عناصر امن، استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور مسلسل اصلاحات ہیں۔ منگل کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (این آئی بی اے ایف )، …
بنگلہ دیش، ویتنام اور سری لنکا جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کی ترقی کا بڑا سبب سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ہے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ بنگلہ دیش، ویتنام اور سری لنکا جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کی ترقی کا بڑا سبب سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ہے،کسی بھی قوم کی کامیابی کے لئے چار اہم عناصر امن، استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور مسلسل اصلاحات ہیں۔ منگل کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (این آئی بی اے ایف )، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے 25 سینئر افسران کو وزارت منصوبہ بندی کے سینئر افسران کی جانب سے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے پی ایس ڈی پی پروگرام اور اس میں وزارت منصوبہ بندی کے کردار پر بریفنگ دی گئی ۔اس گروپ میں سٹیٹ بینک کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ جوائنٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی تاکہ پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے سماجی و اقتصادی چیلنجز کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے مستحکم معاشی ترقی کا سفر طے کیا ہے، انہیں طویل مدتی حکومتی قیادت میسر رہی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش، ویتنام اور سری لنکا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان ممالک میں مستقل مزاج حکومتی پالیسیاں ان کی تیز رفتار ترقی کا سبب بنی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1998 میں پیش کیا گیا وژن 2010، 1999 کے مارشل لاء سے متاثر ہوا۔ اسی طرح 2013 میں شروع کیا گیا وژن 2025 جس کا مقصد پاکستان کو عالمی معیشتوں میں سرفہرست 25 ممالک میں شامل کرنا تھا، 2018 میں قیادت میں تبدیلی کے بعد چیلنجز کا شکار ہوگیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ سیاسی تبدیلیاں پاکستان کی مستحکم ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنیں۔چین،پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کو پاکستان کی معیشت میں بنیادی عنصر قرار دیتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہاکہ سی پیک نے 3 سالوں میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے جو ہماری معیشت پر انقلابی اثرات ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لئے ایک گیم چینجر ہے جو نہ صرف انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری لا رہا ہے بلکہ ترقیاتی شراکت داری کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی مالیاتی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لئے مشکل پالیسی فیصلے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی پچھلی حکومت کی شرائط پر عملدرآمد کے لئے حکومت نے تعلیم، معیشت اور صحت سمیت کئی شعبوں میں اصلاحات کیں۔حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیرنے برآمدی ترقی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا جسے انہوں نے پاکستان کی پیداواریت کو بڑھانے اور عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کے مثبت تاثر کے لئے لازمی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری برآمدی صلاحیت میں اضافہ پاکستانی مصنوعات کے لئے بین الاقوامی منڈیوں میں ایک مضبوط اور قابل اعتماد نام بنانے کے لئے ضروری ہے۔








