حکومت بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر پیغام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام عالم کے ساتھ مل کر ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے،بچے مستقبل کے معمار ہیں، ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کو …

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام عالم کے ساتھ مل کر ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے،بچے مستقبل کے معمار ہیں، ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ہرممکن اقدمات کئے جا رہے ہیں،آئیے ایسے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ، بااختیار ہو اور اسے قومی ترقی اور خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔

جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ آج بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر پاکستان اقوام عالم کے ساتھ مل کر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے، اس سال عالمی سطح پر یہ دن ’’بچوں سے مشقت ناقابل قبول : بچوں کے لیے منصفانہ مواقع ، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق آج بھی دنیا بھر میں 13 کروڑ 80 لاکھ بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ بچے خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں،بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سد باب قومی معاشی و سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے، قوموں کی ترقی مستقبل کی افرادی قوت، بچوں کی ذہنی و جسمانی قدرتی صلاحیتوں کی افزائش اور بہترین استعمال پر منحصر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس مقصد سے وابستگی کا واضح ثبوت انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے متعلقہ کنونشنز کی توثیق ہے جو ملازمت کی کم سے کم عمر اور بچوں سے مشقت کی بدترین اقسام کے خاتمےکے لیے اقدامات پر مبنی ہیں،حکومت پاکستان بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، بچوں سے متعلق قانونی اصلاحات، موثر نفاذ، سماجی تحفظ، تعلیم اور معاشی آسودگی جیسے پہلوئوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں سے مشقت کی بنیادی وجوہات کا تدارک کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی ترجیحات میں باوقار روزگار کے فروغ اور بچوں سے مشقت کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں۔ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال بچوں کے حقوق کی نگرانی اور اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

وفاقی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ اور صوبائی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیوروز اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ذریعے کمزور اور محروم بچوں کو تحفظ، معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں،حکومت تمام متعلقہ اکائیوں بشمول آجروں اور محنت کشوں کی تنظیموں کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے عملی طور پر نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں جو لائق ستائش ہیں، تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں، بچوں اور جبری مشقت کے معاملات کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔

یہ اقدامات کمزور و محروم بچوں کے تحفظ اور ان کی بحالی و معاونت کے ہمارے قومی عزم کے عکاس ہیں،حکومت اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ غربت بچوں سے مشقت کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے، اس لیے حکومت باعزت روزگار کے مواقع کی فراہمی اور معاونت کے سماجی تحفظ کے پروگرامز اور تعلیمی معاونت کی سکیمز کو وسائل کی کمی کے باوجود موثر انداز میں چلا رہی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وسیلہ تعلیم اقدام اور پاکستان بیت المال کے چائلڈ لیبر سکولز قابل ذکر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچے ملک کے مستقبل کے معمار ہیں، ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کی افزائش کے لیے ہرممکن خصوصی اقدمات کئے جا رہے ہیں۔

دانش سکولز کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مستحق بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، یونیسیف، یورپی یونین اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ ہمارا مسلسل تعاون لیبر گورننس کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آجروں، محنت کشوں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی رہنمائوں، ذرائع ابلاغ اور نجی شعبے سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے کے اس قومی مقصد میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔آئیے مل کر ایسے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ، بااختیار ہو اور اسے قومی ترقی اور خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔