اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری، مارکیٹ کی شفافیت، بہتر حکمرانی اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرکے اقتصادی ترقی کو فروغ دیاجاسکتاہے۔ یہ بات عالمی بینک کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ شرنکنگ اکنامک ڈسٹنس کے نام سے جاری رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ترقی پذیر ممالک کو نقل و حمل کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے، …
بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری، بہتر حکمرانی اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرکے اقتصادی ترقی کو فروغ دیاجاسکتاہے، عالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری، مارکیٹ کی شفافیت، بہتر حکمرانی اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرکے اقتصادی ترقی کو فروغ دیاجاسکتاہے۔ یہ بات عالمی بینک کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
شرنکنگ اکنامک ڈسٹنس کے نام سے جاری رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ترقی پذیر ممالک کو نقل و حمل کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان کی معیشتوں کو نقصان پہنچ رہاہے،ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم آمدنی والے ممالک میں درآمدات و برآمدات کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، ان ممالک میں خراب سڑکوں، بندرگاہوں اور ناکافی ریلوے نیٹ ورکس کی وجہ سے لاگت اور وقت دونوں زیادہ ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض ممالک میں ٹرانسپورٹ مارکیٹ میں اجارہ داری اور غیر مسابقتی رویوں کی وجہ سے کرایوں کی شرح زیادہ ہے جبکہ سرحدی رکاوٹیں اور ضوابط بھی لاگت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ پاکستان میں زیادہ فاصلے کے لئے کرایہ کی شرح کم فاصلے کے مقابلہ میں کم ہے۔ کراچی سے باغ آزادکشمیرتک ٹرانسپورٹ کے اخراجات کراچی سے کوٹری کے مقابلہ میں 78فیصدکم ہے۔
رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ اعلیٰ معیار کی سڑکیں اور بندرگاہیں سامان کی ترسیل کے اخراجات کو کم کرسکتی ہیں، اسی طرغ نجی شعبے کی شمولیت اور بندرگاہوں میں ڈیجیٹلائزیشن سے کارکردگی میں بہتری آسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نقل و حمل کے اخراجات میں کمی سے نہ صرف بین الاقوامی بلکہ مقامی تجارت میں بھی اضافہ ممکن ہے ۔








